مفتی محمد عبده
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۵
چلتے اور کسی سے اس وقت تک بات نہ کرتے جب تک شدید ضرورت پیش نہ آئے۔ ان کے اس دور کی یادگار ان کی کتاب رسالات الواردات ہے جو ۱۸۷۴ میں شائع ہوائی۔
۱۸۶۹ میں جب سید جمال الدین افغانی قاہرہ آئے تو کچھ نوجوانوں کے ساتھ محمد عبدہ کو بھی ان سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ جمال الدین افغانی ایک آتشین شخصیت کے آدمی تھے۔ محمد عبدہ ان سے شدید طور پر متاثر ہوئے۔ جرجی زیدان کے الفاظ میں " انھوں نے جمال الدین افغانی کی مضطرب روح اپنے اندر جذب کرلی " اس تاثر نے انھیں تصوف اور ادب سے نکال کر سیاست کی راہ پر ڈال دیا۔ اعرابی پاشا کی بغاوت کے وقت انھوں نے فتویٰ دیا کہ خدیو کی بیعت فسخ کرنا جائز ہے، اس فتوے کی وجہ سے ان کو مصر سے جلا وطن کر دیا گیا۔ ان کے اس دور کے مضامین کا مقصد غیر ملکی مداخلت کے خلاف عوام کو اکسانا تھا۔ انھوں نے آزادی کے حصول کو قومی زندگی کا بنیادی مقصد قرار دیا اور جمہوریت اور آزادی کی حمایت میں پُر جوش مقالے لکھے۔ جمال الدین افغانی کے انتقال کے بعد اگرچہ ان کے خیالات میں کافی تبدیلی آگئی تھی۔ اب ان کا خیال یہ ہوگیا کہ جو امور ہمارے اختیار میں ہیں ان کی انجام دہی میں لگنا چاہئے اور جو امور ہماری طاقت سے باہر ہیں مثلاً سیاست جس میں انگریزوں کو بے پناہ مادی اور فوجی تفوق حاصل ہے خدا پر چھوڑ کر اپنی دینی، اخلاقی اور تعلیمی اصلاح پر توجہ مرکوز کر دینا چاہئے۔ مگر اپنی سابقہ طبیعت کی وجہ سے اب بھی کبھی کبھی ان کی تحریر تقریر میں سیاست کا رنگ آجاتا، جس کی وجہ سے حکمران طبقہ کو موقع ملتا کہ وہ حال کے محمد عبدہ کو ماضی کے محمد عبدہ کی روشنی میں دیکھے اور ان کے خلاف احتیاطی کارروائی کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑے بڑے مواقع ملنے کے باوجود تسلسل کے ساتھ کسی ایک کام کو عرصہ تک نہ کر سکے۔
مفتی محمد عبدہ جامعہ ازہر کو عالم اسلامی کی اصلاح کا مرکز بنانا چاہتے تھے۔ مگر ۱۹۰۵ء میں انھوں نے جامعہ ازہر کی انتظامی کمیٹی سے استعفا دے دیا۔ اب ان کا خیال تھا کہ بطور خود کسی نئے اصلاحی ادارہ کا قیام عمل میں لائیں۔ اس وقت ان کی عمر ۵۶ سال ہو چکی تھی۔ مصر کے ایک بڑے رئیس نے جوان کی تجویز سے ہمدردی رکھتا تھا اپنی زمین کا ایک معقول قطعہ ان کے لئے وقف کر دیا اور مجوزہ ادارہ کا خاکہ بھی تیار ہونا شروع ہوگیا۔ مگر جولائی ۱۹۰۵ء میں ان کا انتقال ہو گیا اور ان کی نامکمل تفسیر قرآن کی طرح ادارے کی تشکیل بھی ناتمام رہ گئی۔
مفتی محمد عبدہ کے ذہن میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ایک مشترک کمپنی بنائی جائے اور وہ ایک اعلیٰ معیار کا عربی روز نامہ جاری کرے، اس کی مجلس ادارت میں انتہائی لائق افراد لئے جائیں اور اس کو ملک کی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ایک خالص تعمیری پر چہ ہو۔ اور اس کو سیاسی باتوں سے بالکل پاک رکھا جائے۔ مگر موت کی وجہ سے یہ ارادہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سیاسیات کی نذر ہو گیا۔ آخر میں جب ہوش آیا اور انھوں نے تعمیری کام کرنا چاہا تو موت کا وقت آپہنچا تھا۔ مفتی محمد عبدہ کی وفات پر ای۔ جی براؤن نے اپنے پیغام میں کہا تھا " موجودہ زمانے میں ان کا سا شخص نہ مغرب میں پیدا ہوا، نہ مشرق میں۔ " جرجی زیدان نے ان کا اعتراف ان لفظوں میں کیا تھا " قوموں کی تاریخ میں ، خواہ وہ کتنی ہی قدیم کیوں نہ ہو ایسے افراد کم نظر آتے ہیں جن کی سرگرمیوں کا پیمانہ اتنا وسیع ہو جتنا کہ محمد عبدہ کے اصلاحی کاموں کا تھا " ایک ایسی شخصیت کا جو آخری انجام ہو اس پر ان کے ایک معاصر کے الفاظ صادق آتے ہیں_ " اس دن کے طلوع ہونے سے پہلے ہی وہ دنیا سے کوچ کر گئے جس کے طلوع کے لئے ان کی بے تاب فطرت سراپا انتظار تھی ۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues