مفتی محمد عبده
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۰
بھی تھیں رور فنِ خطاطی کے تاریخ نگار بھی ہر دور میں کچھ ایسے فن کار پیدا ہوتے رہے ہیں جو اپنے بعد ہمیشہ کے لئے اپنا فنی شاہکار چھوڑ جاتے ہیں۔ استاد عیسیٰ آفندی اور مکرمت خاں شیرازی نے تاج محل سلسلے میں سید صاحب کو بلا کر ضرور مشورہ کرتے ہیں کا آرکٹک تخلیق کرکے دائمی شہرت حاصل کرلی۔ اسی طرح احمد معمار نے جامع مسجد شاہجہانی دہلی کا ڈیزائن بنایا جو زندہ و جاوید شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ عبدالحق شیرازی نے تاج محل کی محرابوں کی کتابت کرکے دنیا کو دائمی طور پر حیرانی میں ڈال دیا۔
ایسے لوگ اکثر اپنے زمانے میں گم نام ہوتے ہیں" بعد کو دنیا ان سے باخبر ہوتی ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت ایک تحریر میں سلطان مسقط کی شاہی عمارتوں سید احمد رام پوری (۵۱ سال) کی ہے جو خطاط اور کے ڈائرکٹر لکھتے ہیں: "مسٹر سید احمد نے اسلامی تعمیری آرٹسٹ ہونے کے ساتھ قدیم اسلامی تعمیری آرٹ کے انداز کے جدید اور قدیم اسلوب کے بارے میں ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues