مفتی محمد عبده
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۱
ڈیپارٹمنٹ کو جو مفید مشورے دیے ہیں اور خطاطی اور عربی ڈیزائن کا کام جس طرح انجام دیا ہے وہ بلادِ عرب لوگوں کی نگاہ میں قابلِ صد مبارک باد ہے“۔ اسیما آرکیٹکٹ کے روحِ رواں مسٹر ایم۔ یو۔ خان تحریر فرماتے ہیں: ”سید احمد اپنے بعد اس دنیا میں ایسے فنی نقوش چھوڑ کر جائیں گے جو آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے حیرت کا سبب ہوں گے “۔ آگے لکھتے ہیں: حضرت بل کی طویل ترین عبارت جس کی لمبائی ۴۸ فٹ آٹھ انچ اور چوڑائی ۳۷ فٹ تھی، اس پر جب اسماءباری تعالیٰ کے کے سامنے کسی بھی زمانہ کی تعمیرات اور خطاطی کا ذکر کریں وہ آپ کے سامنے قدیم فنی کمالات کے حیرت انگیز انکشافات کریں گے، خواہ وہ گفتگو قصر الحمراءپر ہو یا تاج محل آگرہ پر۔ ترمذ اور خیوا کی اسلامی عمارات ہوں یا دہلی کی قدیم اسلامی تعمیرات، ان سب کے آرکیکچر ، کنسٹرکشن اور ڈیکوریشن کے بارے میں ڈیزائن کے ذریعہ آپ کو مطمئن کر دیں گے ۔ سید احمد صاحب ہمہ وقت انھیں چیزوں کی کھوج میں لگے رہتے ہیں ۔ ان کے حلیہ کو دیکھ کر کوئی بھی نفسیاتی ماہر ان کو فن کار یا محقق نہیں لکھے گئے اور دور سے دیکھا تو گمان گزرا عبدالحق شیرازی دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں“۔
سید احمد رام پوری چند برسوں سے عربی خط کے ماخذ کے موضوع پر ایک تاریخ لکھ رہے ہیں۔ اس میں وہ بتانا چاہتے ہیں کہ موجودہ عربی خط کتنی کروٹوں اور اشتقاق کے بعد ہم تک موجودہ صورت میں پہنچا ہے وہ رات دن اس کے مطالعہ میں اور مضامین اور خط کے ہزاروں نمونوں کی تیاری میں دنیا و مافیہا سے بے خبر لگے رہتے ہیں۔ وہ ہر قدیم عمارت میں جا کر ان کی عبارتوں کو پڑھتے ہیں اور اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ عربی خط کی تاریخ پر ان کی کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ صرف قدیم و جدید خطوط کے ڈیزائن کرنے میں ان کو پانچ برس گزر چکے ہیں۔ ان صفحات میں ہم سید صاحب کی کتاب کے خط کے دو نمونے ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ ایک نمونہ خط کوفی ابس کا ہے اور دوسرا ثلث کے طغری کے انداز کا ۔ محض اپنے شوق کے تحت اس طرح کے فنی کام میں اس طرح مسلسل لگے رہنے کی مثال بہت کم ملے گی۔
سید احمد صاحب فن خطاطی کی تاریخ اور قدیم اسلامی آرٹ کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ آپ ان کہہ سکتا۔ وہ سیدھا سادا لباس پہنتے ہیں اور دنیا کی بھیڑ سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی دور کا عمارتی تزئین کا کام ہو وہ اس کو خود کر کے دکھا سکتے ہیں۔ سید احمد صاحب ہندوستان میں گُم نامی کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس قدر عظیم ہیں۔ وہ وقت نزدیک ہے جب آپ کے سامنے سید احمد صاحب کی برس ہا برس کی محنت کتابی شکل میں آپ کے ہاتھوں میں ہوگی ۔ ” لا غالب الا اللہ ، یہ طغریٰ کوفی خط میں ہے۔ سلطان قابوس والیٔ عمان و مسقط کی مسجد الخور کی چھت اسی سے مزین کی گئی ہے ۔ ۴۴ فٹ کے سائز کے طغرے کا یہ ڈیزائن سید احمد صاحب رام پوری نے تیار کیا تھا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues