Al-Risala · October 1976 · page 48

مفتی محمد عبده

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۸

انتظار کر رہے ہیں موجودہ وسائل سے آپ زیادہ نفع حاصل کر سکتے ہیں کچھ لوگوں کے ساتھ ایک بار بستی (اتر پردیش) جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ہارٹی کلچر کے تحت حکومت کا بہت بڑا باغ ہے جس میں ہر قسم کے درخت لگے ہوئے ہیں۔ ڈائرکٹر صاحب نے ہماری تواضع کے لئے چند گلاس رس منگوائے۔ ہم نے پیا تو وہ بہت لذیذ تھا۔ ڈائرکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ تازہ امرود کا رس ہے جو ابھی ابھی درخت سے توڑ کر نکالا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اتر پردیش میں کثرت سے باغات ہیں مگر باغات کے مالک ان سے پورا فائدہ نہیں اٹھاتے۔ وہ باغ کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ کھیتوں میں درخت لگا کر چھوڑ دیا جائے اور فصل کے موقع پر پھل فروخت کر دیئے جابلی۔ ں رس نکالے جائیں اور ان کو معیاری انداز سے پیک کر کے بازار میں لایا جائے تو بہت اچھا منافع کمایا جا سکتا ہے ۔ مصنوعی مشروبات جو آج کل بازار میں چل رہے ہیں ان سب سے زیادہ اس کو مقبولیت حاصل ہوگی اور پھر اس طرح آپ قوم کی صحت کا معیار بہتر بنانے میں بھی مددگار بن سکتے ہیں۔ یہ پندرہ سال پہلے کی بات تھی ، اب پھلوں کا رس نکالنے کے متعدد کارخانے ملک میں قائم ہو چکے ہیں شملہ ۔ کالکا شاہراہ پر ایک مقام ہے جائی ۔ یہاں پھلوں کے رس کی ایک فیکٹری قائم کی گئی ہے ۔ یہ فیکٹری جدید ترین طرز کی ہے ۔ یہاں ہر سال سیب کے رس کے دو ملین بوتل حالانکہ جس طرح غلہ کی فصل کی دیکھ بھال اور آب پاشی کی جاتی ہے اسی طرح باغوں کی بھی ہونی چاہئے ۔ اس طرح آپ بہت زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

پھر انھوں نے بتایا کہ ملک کے اندر اور باہر پھلوں کے رس کی بہت مانگ ہے اگر کارخانے قائم کرکے پھلوں سے تیار ہوا کریں گے ۔ ۲۵ اگست ۱۹۷۶ء کو ہماچل پردیش کے وزیر اعلی ڈاکٹر پر مار نے اس کا افتتاح کیا۔ یہ فیکٹری کو آپریٹو سیکٹر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی لاگت ۵۶ لاکھ ۴۸ ہزار ہے۔ یہاں پھلوں کے جو رس تیار ہوں گے وہ زیادہ تر برآمد کئے جائیں گے ۔ خلیج کے ملکوں میں ان کی بہت مانگ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page