طرابلس کی ایک تقریر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۹
جس کو آپریٹیو سوسائٹی نے اس کو بنایا ہے، اس میں ۴۵ باغات کے مالک اور دو چھوٹی چھوٹی کو آپریٹو سوسائٹیاں شامل ہیں۔ اس فیکٹری میں حکومت نے ۸۹۰۰۰ روپے دیئے ہیں اور بقیہ سرمایہ نجی اداروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ فیکٹری روزانہ پانچ ٹن رس تیار کر سکتی ہے۔ اس میں زیادہ تر سیب کا رس تیار ہو گا۔ اس کے علاوہ دوسر پھلوں کا رس بھی نکالا جائے گا۔ اس میں جام، جیلی، چینی وغیرہ بھی تیار ہوں گے۔ اور تازہ پھل صحت بخش طریقوں کے مطابق ڈبوں میں پیک کئے جائیں گے۔ فی الحال فیکٹری میں کام کرنے والوں کی تعداد ایک سو ہو گی ۔
فیکٹری کی بلڈنگ ۷لاکھ روپے میں تیار ہوئی ہے چار لاکھ روپے پانی ، بجلی اور سڑک کی مد میں خرچ ہوں گے یہ منصوبہ مکمل طور پر ملکی ماہرین نے تیار کیا ہے۔ ۶۷ - ۱۹۶۶ میں جب ابتداء اس کا منصوبہ بنایا گیا تو اندازہ تھا کہ وہ ۲۶ لاکھ روپئے میں بن جائے گی ۔ اس فیکٹری کے ساتھ ایک کولڈ اسٹوریج بھی بنایا گیا ہے، تاکہ فصل کے زمانہ میں اس کے اندر پھل محفوظ کر لئے جائیں اور موسم کے بعد فیکٹری کے کام آسکیں ۔ اس میں بیک وقت ۵۰۰ ٹن پھل رکھے جا سکتے ہیں ۔
نئے طریقوں سے کام کرنے کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے اس کا جواب کو آپریٹو ہے۔ ایک ہزار آدمیوں کے پاس ایک ایک ہزار روپے ہوں تو وہ محض اپنے سرمایہ سے کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے ۔ مگر یہی لوگ اپنا اپنا سرمایہ ایک مشترک کمپنی میں لگا دیں تو ان کا سرمایہ دس لاکھ روپئے ہو جاتا ہے اور پھر وہ کوئی بھی کام کر سکتے ہیں ، موجودہ زمانہ میں تمام بڑے بڑے کاروبار مشترک سرمایہ ہی سے چل رہے ہیں۔ مل جل کر کام کرنا ہمیشہ بابرکت ہوتا ہے، خواہ دین کے معاملہ میں ہو یا دنیا کے معاملہ میں ۔
طرابلس کی ایک تقریر
طرابلس کے دو ماہ قیام (فروری مارچ ۱۹۷۶ء) میں وہاں کے تعلیم یافتہ طبقہ کو تقریبا ایک درجن مواقع پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔ یہاں ایک تقریر کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔ یہ ۲۰ مارچ کو کی گئی تھی اور خود ہمارے لئے بھی سبق آموز ہے۔ طرابلس کے متحف (میوزیم) میں ایک بکری رکھی ہوئی ہے جس کی گردن کے اوپر دوسر ہیں۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا، اگر ایک شخص اس کو دیکھ کر آئے اور آپ اس سے پوچھیں کہ سب سے عجیب چیز متحف میں تم نے کیا دیکھی۔ تو شاید وہ جواب دے گا کہ ”دوسروں والی بکری“۔ مگر میں آپ سے کہتا ہوں کہ میں نے سب سے عجیب چیز جو دنیا میں دیکھی وہ دوسروں والے انسان ہیں۔ طرابلس کے متحف میں تو صرف ایک ایسی بکری ہے جس کے دوسر ہیں۔ مگر میں نے اپنی ساری عمر میں جتنے انسان دیکھے سب دوسرے رکھنے والے انسان تھے۔
آپ شاید تعجب کریں۔ ممکن ہے آپ میں سے کوئی کہے کہ اس شخص کو تقریر کی مجلس میں کھڑا کرنے کے بجائے آنکھ کے اسپتال میں بھیجنا چاہئے۔ آپ جو بھی سمجھیں۔ مگر یہ ایک واقعہ ہے کہ مجھے کوئی ایک سرکا انسان دکھائی نہیں دیتا۔ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں، اس کو مثال سے سمجھیے۔ آپ کا ایک لڑکا ہے۔ آپ اس کو کامیاب ڈاکٹر دیکھنا چاہتے ہیں آپ کیا کریں گے۔ آپ اس کو اسکول میں داخل کریں گے۔ بیالوجی کے ساتھ ہائی اسکول کرائیں گے۔ پھر بی، ایس، سی کرائیں گے۔ پھر اس کو ایم بی ایس کے کورس میں داخل کریں گے۔ پھر آپ کی کوشش یہ ہوگی کہ اس کو ایف آر سی ایس کرنے کے لئے لندن بھیجیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد ہی آپ یہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues