طرابلس کی ایک تقریر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۰
جو بات ایک شخص اپنی ذات کے بارے میں جانتا ہے وہی بات قوم کے بارے میں بھول جاتا ہے بنائے ۔ آپ میں سے کوئی شخص ایسا یں کرے گا کہ وہ اپنے لڑکے کو یوں ہی چھوڑ دے کہ وہ کھیلتا کودتا رہے۔ اس کے بعد جب وہ ۲۵ برس کا ہو جائے تو اس کا باپ اس کو ڈاکٹر بنانے کے حق میں پر جوش تقریریں شروع کر دے، وہ حکومت کو تار بھیجے کہ میرے لڑکے کو اسپتال میں سرجن مقرر کرو۔ یا یہ کہ اس کو " پس ماندہ " قرار دے کر ڈگری کے بغیر ڈاکٹر تسلیم کر لو۔ آپ میں سے ہر شخص خوب جانتا ہے کہ ڈاکٹر بننے کے لئے ضروری ہے کہ اس کا لڑکا تعلیمی اور تربیتی کورس کو پورا کرے۔ محض مطالبہ کرنے سے کوئی شخص کبھی ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ یہ دنیا استحقاق کی دنیا ہے، مطالبات کی دنیا نہیں۔
مگر یہی بات جو ہر آدمی اپنے ذاتی معاملہ میں جانتا ہے، قومی معاملہ میں نہ وہ اس سے بے خبر ہے، جہاں کسی شخص کو قوم کا درد اٹھا اور وہ اصلاح کے میدان میں کھڑا ہوا، فوراً ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک اور سر پیدا ہو گیا ہے جو بالکل دوسرے ڈھنگ سے سوچتا ہے۔ اب وہ " تیاری" کے بجائے " مطالبہ " کو کامیابی کا راز سمجھنے لگتا ہے۔ مفروضہ حریف کے خلاف پر جوش تقریریں کرنا، تار اور میمو رنڈم بھیجنا، مطالبات کے ریزولیوشن پاس کرنا، بین الاقوامی اداروں میں اپنا کیس لے جانے کی اسکیمیں بنانا، یہی اس کی تمام سرگرمیوں کا خلاصہ ہوتا ہے۔ وہی شخص جو اپنی اولاد کے بارے میں جانتا تھا کہ کامیابی صرف اس طرح ملتی ہے کہ پہلے اس کے لئے صلاحیت اؤر استعداد پیدا کی جائے، وہی شخص قوم کی اولاد کے بارے میں اپنی ساری سرگرمیوں کا نقشہ اس طرح بناتا ہے گویا تقریر اور مطالبات ساری کامیابیوں کا راز ہیں۔ یہ لا حاصل جد و جہد بالآخر جب ناکام ہو جاتی ہے تو وہ بہت نہیں ہارتا۔ اب وہ اپنی مطالباتی مہم کو جاری رکھنے کے لئے نیا لفظ ڈھونڈ لیتا ہے: "ہم کو پس ماندہ قرار دے کر استحقاق کے بغیر ہی تمام مناصب پر بٹھا دو" ایسے لوگوں کو اس کے سوا کیا کہا جائے کہ وہ دوسرا رکھنے والے لوگ ہیں۔
اس مزاج کے معاملہ میں کسی مسلم قوم کی کوئی خصوصیت نہیں، ہر علاقہ کے مسلمان اسی دہری ذہنیت کا شکار ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا دوسراسر ایک کے خلاف کام کر رہا ہے، کسی کا دوسرے کے خلاف۔
مزید حیرت ناک بات یہ ہے کہ اس قسم کے الفاظ بولنے والوں کو لوگ رہنما سمجھتے ہیں اور ان کو قائد ملت، مجاہد قوم امام العالم جیسے خطابات سے نوازتے ہیں۔ گویا خواص ہی نہیں خود عوام بھی دوسرا رکھنے والے لوگ ہیں۔ ایک ذاتی معاملہ کے لئے دوسرا قومی معاملہ کے لئے کوئی نہیں جو ایک سر سے سوچنا جانتا ہو۔ ایسی حالت میں اگر میں کہوں کہ میں نے اپنی عمر میں جتنے انسان دیکھے، سب دوسرا والے انسان دیکھے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔
سبق آموز
حضرت حمیدالدین ناگوری شیخ طریقت ہونے کے ساتھ عالم اور محدث بھی تھے۔ ان کے ایک مرید آئے اور طریقت کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے فرمایا: " ان دنوں میں حدیث کی تعلیم دینے میں بہت زیادہ مشغول ہوں، میرے پاس طریقت کی تعلیم کے لئے وقت نہیں۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues