Al-Risala · October 1976 · page 51

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۱

تاریخ کا ایک سبق

قدیم ترکی میں دو شخصیتیں علمی و فکری حیثیت سے انتہائی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک نامق کمال (۱۸۸۸-۱۸۴۰) دوسرے ضیاء گوک الپ (۱۹۲۴-۱۸۷۵) دونوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی دونوں ترکی کے علاوہ عربی اور فرنچ زبانیں جانتے تھے۔ انیسویں صدی کی مسلم دنیا کی دوسری تمام شخصیتوں کی طرح اگرچہ یہ دونوں ہی سیاست سے متاثر تھے۔ اور سیاسی انقلاب کو سب سے بڑا کام سمجھتے تھے۔ تاہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ نامق کمال نسبتاً معتدل اور متوازن فکر کے آدمی تھے۔ وہ عملی سیاست سے متاثر ہونے کے باوجود اسلامی اصطلاحوں میں سوچتے تھے اور ” ترک اتحاد“ کے بجائے ” اسلامی اتحاد“ کے الفاظ بولتے تھے۔ مزید یہ کہ نامق کمال کو ترکی کی جدید نسل میں مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ خالدہ ادیب خانم نے ان کے بارے میں لکھا ہے :

" نامق کمال ترکی کی جدید کی محبوب ترین شخصیت تھی۔ ترکی کے افکار و سیاسیات کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی “۔ Halde Edib, Turkey Faces West, P.84 دوسری طرف ضیاء گوک الپ ایک آزاد خیال آدمی تھا۔ اس کے فکری نظام میں اسلام بنیادی عامل کی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اس نے دعوت دی کہ ترکی کی تعمیر نو خالص قومی اور مادی بنیادوں پر کی جائے۔ وہ اسلامی تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کا پرجوش علم بردار تھا۔ ترکی کی بعد کی تاریخ بتاتی ہے کہ ترکی میں نامق کمال جیسے لوگوں کے افکار کو غلبہ نہیں ملا۔ بلکہ ضیاء گوک الپ جیسے لوگ عملاً وہاں کی سیاست و قیادت پر چھا گئے۔ اس کی کم از کم ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ضیاء گوک الپ کے افکار کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کمال اتاترک (۱۹۳۸۔ ۱۸۸۱) جیسا طاقتور اور مضبوط ارادہ کا آدمی مل گیا تھا۔

وہ اسلام پر کتاب لکھ رہے ہیں ڈاکٹر آر۔پی۔ ترپاٹھی مغل تاریخ پر سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب مسٹری آف دی مفلس نے اپنے موضوع پر غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے۔ وہ اردو، فارسی ہندی، سنسکرت اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آج کل وہ لندن کے قریب اسکس میں مقیم ہیں اور اسلام پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں ۸۶ سال کی عمر کے باوجود وہ چار سال سے ہر روز کم از کم سات مکمل گھنٹے مطالعہ میں صرف کرتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page