Al-Risala · October 1976 · page 52

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۲

تا کہ اس عظیم مذہب کے بارے میں اپنی کتاب کے الہئے مواد جمع کر سکیں۔

ڈاکٹر تر پاٹھی کی ابتدائی تعلیم لکھنو میں ہوئی ڈاکٹر ترپاٹھی کو پرنسپل کی بات پسند نہیں آئی۔ وہ مشہور پروفیسر لاسکی سے ملے اور ان کو ساری بات بتائی۔ پروفیسر لاسکی نے کہا جہاں ان کے والد سرکاری ملازمت میں تھے، بنارس کہ آپ کسی بھی اپنے پسندیدہ موضوع پر ایک مضمون یونیورسٹی سے انھوں نے ایم۔ اے کیا۔ اس کے بعد ل آباد یونیورسٹی میں لکچرر کی جگہ مل گئی۔ اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک انگریز افسر نے اتّفاقاً ان کا لکچر سنا۔ اس لکچر سے وہ متاثر ہوا لکھ کر مجھ کو دکھائیے۔ انھوں نے مغل ایڈمنسٹریشن پر دس صفحات کا ایک مضمون لکھ کر پیش کیا۔ پروفیسر لاسکی کو وہ مضمون پسند آ گیا۔ انھوں نے ان کے اسی مضمون پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور اس نے اس کا اعتراف اس طرح کیا کہ لندن کے اسکول آف اور نٹیل اسٹڈیز میں ان کو اسکالر شپ دلوادی ۔ یہ ۱۹۱۶ کا واقعہ ہے مگر جب وہ لندن پہنچے تو اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ میں آپ کو براہ راست ریسرچ میں داخلہ نہیں دے سکتا ۔ پہلے آپ کو ہمارے یہاں سے ایم ۔ اے کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔

دیدی۔ اور پھر لندن اسکول آف اکنا مکس میں ان کور یڈر کی جگہ دلوادی جو اس زمانہ میں کسی ہندوستانی کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ ۲۰ سال تک اس اسکول میں ریڈر اور پھر پروفیسر رہے۔

Dr. R.P. Tripathi Hornchurch Essex, England ڈیڑھ سو برس پہلے سرسید کی کتاب آثار الصنادید پہلی بار ۱۸۴۷ء میں چھپی تھی ۔ اس میں انھوں نے دہلی کی جامع مسجد کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : دروازہ شمالی اس مسجد کا پائے والوں کے بازار کی طرف واقع ہے۔ اگرچہ اس طرف بھی کبا بی بیٹھتے ہیں اور سودے والے دکانیں لگاتے ہیں۔ لیکن بڑا تماشا اس طرف مدار یوں اور قصہ خوانوں کا ہوتا ہے تیسرے پہر ایک قصہ خوال مونڈھا بچھاتے بیٹھتا ہے اور داستان امیر حمزہ کہتا ہے۔ کسی طرف قصہ حاتم طائی اور کہیں داستان بوستان خیال ہوتی ہے۔ اور صدہا آدمی اس کے سننے کو جمع ہوتے ہیں ۔ ایک طرف مداری تماشا کرتا ہے اور بھان متی کا کھیل ہوتا ہے۔ اور بوڑھے کو جوان اور جوان کو بوڑھا بناتا ہے ۔ " صفحہ ۲۷۸ یہ انیسویں صدی کے وسط میں دہلی کے مسلم عوام کا حال تھا۔ خواص کا حال وہی تھا جو شاربن مجرد یہ اکیسویں صدی کے وسط کا دور ہے (۱۶۷ھ) نے بنوامیہ کے بارے میں کہا تھا۔ ضاعت خلافتكم يا قوم فالتمسوا نہ قوم تبارت خلافكم فالتمسوا مام‌هاں‌ھا۔ واسکاحال وہی‌ہاتھا جو بہت ساروں‌کا تھا۔ خلیفتہ اللہ بین الشرق والعود رہ‌گئی تھی۔ شیطان کو "الشرق" نام کی کتاب کا شدید صدمہ تھا اے قوم تمھاری خلافت ضائع ہو گئی اب حال یہ ہے کہ اگر تم اپنے خلیفہ کو تلاش کرنا چا ہو تو اس کو شراب ستارہ کی محفل میں پاوگے دانیال اکتوبر ۱۹۶۴

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page