Al-Risala · October 1976 · page 53

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۳

ایک سفر

۱۹ جن۲۔ وی ۱۹۷۶ کونئی دہلی کے سفارت خانہ کے پریس ایڈوائزر نے مجھے بتایا کہ حکومتِ لیبیا نے آپ کو ندوة الحوار الاسلامی مسیحیی (۱-۵ فروری ۱۹۷۶ء) میں شرکت کے لئے مدعو کیا ہے۔ ۲۲ جنوری کو لیبی سفیر ڈاکٹر رجب التروق سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے فوراً ہی ویزا اور ضروری کاغذات دے دیے۔ دیگر رسمی کارروائیوں سے گزرنے کے بعد ۳۰ جنوری کو ایئر انڈیا کے بوئنگ ۷۴۷ سے روانگی ہوئی کویت اور روم ہوتے ہوئے یکم فروری کو ہم طرابلس کے ہوائی اڈہ پر اترے۔

اس قسم کا سفر میرے لئے ہمیشہ وحشت کا باعث ہوتا ہے۔ ہم دہلی کے ہوائی اڈہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور صنعتی پنجروں‘‘ کی زندگی شروع ہوگئی۔ ہوائی اڈہ سے ہوائی جہاز میں، ہوائی جہاز سے کار میں، کار سے ہوٹل میں، ہوٹل سے آڈیٹوریم میں۔ غرض صنعتی تمدن کے پیدا کردہ خوبصورت پنجروں کا ایک غیر مختتم سلسلہ تھا اور ہم ایک سے دوسرے میں منتقل ہورہے تھے۔ مشینوں کے معجز ے سائنسی کاریگری کے جلوے اور ٹکنکل ترقیوں کے کمالات کے درمیان خود انسان ایک غیر اہم وجود بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر ترقی یہی ہے تو یہ ترقی انسان کو انتہائی مہنگی قیمت پر ملی ہے۔ کھلی دھوپ، تازہ ہوا اور قدرت کی فضا سے محروم ہوکر ہم ایک مصنوعی زندگی میں بند ہو گئے ہیں۔ یہ زندگی بظاہر کتنی ہی حسین اور چمک دار نظر آتی ہو وہ ہماری فطرت کے مطابق نہیں۔ انسان جب قدرتی ماحول میں ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ سے بھی قریب ہوتا ہے اور خدا سے بھی۔ جب کہ صنعتی تمدن کے ماحول میں وہ دونوں چیزوں سے دور ہو جاتا ہے۔

مختلف مذاہب کے مشترکہ اجتماعات میں اسلام کی نمائندگی کرنے کا موقع مجھے کئی بار ملا ہے : ۱۔ آل مذاہب کانفرنس ، سیو ہاره (بجنور) نومبر ۱۹۵۹ء ۲۔ ور شو دھرم سمیلین ، الہ آباد مئی ۱۹۶۰ء ۳۔ ورلڈ فیلو شپ آف ریلیجنز ، نئی دہلی فروری ۱۹۶۵ء ۴۔ مذہب، اخلاق، قانون پر انٹرنیشنل سیمینار ، نئی دہلی دسمبر ۱۹۷۳ ۵۔ ندوۃ الحوار الاسلامی المسیحی ، طرابلس فروری ۱۹۷۶ء طرابلس کے سیمینار کی خصوصیت یہ ہے کہ اس موقع پر دنیا کے دوسرے بڑے مذاہب اس لئے جمع ہوئے کہ وہ باہم اتفاق کی بنیادیں تلاش کریں اور ایک مسیح کے الفاظ میں " ماضی کو غرفتہ المحفوظات میں ڈال دیں " اگر چہ یہ اتفاقیہ ہے کہ اس قسم کی کسی کوشش سے فائدہ وہی گروہ اٹھا سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنی کوئی مثبت جدوجہد منظم کر چکا ہو اور اس کو باقاعدہ چلا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ویٹیکن نے اس موقع پر حکومتِ لیبیا سے یہ اجازت حاصل کر لی کہ وہ بن غازی میں اپنا ایک چرچ قائم کرے۔ جب کہ مسلمان اس سیمینار سے اس قسم کا کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ سیمینار کا خاص مقصد دونوں مذاہب کے درمیان متفقہ بنیاد تلاش کرنا تھا۔ سب سے زیادہ طویل گفتگو جس مسئلہ پر ہوئی وہ یہ کہ مذہب کا تصور کیا ہے۔ مسلم جانب کا زور اس پر تھا کہ مذہب ایک مکمل قانون ہے۔ زندگی کے تمام معاملات اس کے دائرہ میں شامل ہیں۔ اس کے برعکس مسیحی جانب کا کہنا تھا کہ مذہب ایک روحانی چیز ہے ، وہ بطور ایک قوت محرکہ کے انسان کی سرگرمیوں میں شامل رہتا ہے۔ مگر قوانین و ضوابط کی شکل میں وہ اپنا کوئی مخصوص مقام نہیں رکھتا۔ کچھ لوگوں نے یہ بحث چھیڑ کر مجلس میں کافی گرمی پیدا کی کہ عیسائی حضرات فلسطین اور اس قسم کے دوسرے معاملات میں کھل کر مسلمانوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ " اس قسم کے میں نے اپنے گھر میں اس پر زور دیا کہ اس کام کے سلسلے میں اقدامات ہیں۔ ملاقات میں سرہ کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page