Al-Risala · October 1976 · page 45

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۵

تمام مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصل سوال اسلام کے مذہبی استناد کو تسلیم کرنے کا ہے جس کا عیسائی حضرات اب تک انکار کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ایسے عیسائی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں۔ مگر ان کا یہ ماننا انفرادی طور پر ہے۔ کلیسا نے ابھی تک اس کو نہیں مانا ہے۔ لیبیا کے ایک پادری نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ میں حضرت محمد کو سچا رسول مانتا ہوں۔ مگر ویٹیکن کے نمائندہ نے یہ کہہ کر اس کی تردید کر دی کہ یہ ان کی انفرادی رائے ہے۔ تاہم اس نے کہا کہ ویٹیکن نے ایک کمیٹی خاص اس مقصد کے لئے مقرر کی ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا ہم حضرت محمد کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کر سکتے ہیں۔

راقم الحروف نے اپنے مقالہ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ وہ بنیادی نکتہ جہاں سے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں، وہ ”فارقلیط“ کی تعبیر کا اختلاف ہے۔ یوحنا کی انجیل صاف طور پر بتاتی ہے کہ حضرت مسیح نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میرے بعد خدا ایک تسلی دہندہ (یا ستودہ صفات) بھیجے گا جو ابد تک تمھارے ساتھ رہے گا۔ وہ کل سچائی کو ظاہر کرے گا، وہ دنیا کا سردار ہو گا، وہ ان باتوں کو بھی بتائے گا جو میں نے نہیں بتائیں۔

یہ اور اس طرح کی دوسری پیشین گوئیاں حضرت مسیح کے بعد کی شخصیتوں میں جس کے اوپر صادق آتی ہیں، وہ صریح طور پر پیغمبرِ اسلام کی ذات ہے۔ مگر مسیحیوں نے ”تسلی دہندہ“ کو روح القدس قرار دے کر سارے مفہوم کو الٹ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تسلی دہندہ روح القدس کی شکل میں حضرت مسیح پر ایمان والے کے اوپر آتا ہے اور ان کے ذریعہ ان سچائیوں کو ظاہر کرتا ہے جو حضرت مسیح نے نہیں بتائیں۔ اس تعبیر کے ذریعہ انھوں نے ان تمام اضافوں کو حق بجانب قرار دینے کا جواز ڈھونڈھ لیا جو حضرت مسیح کے بعد ان کے ماننے والوں نے حضرت مسیح کے مذہب میں کیں ۔ اس نے کلیسا کو حضرت مسیح کا دائمی اور مستند نما ئندہ بنا دیا۔ اس طرح انھوں نے اپنے آپ کو اس آخری اور ابدی سچائی سے محروم کر لیا جو پیغمبر اسلام کے ذریعے ظاہر کی گئی ہے ”فارقلیط“ کی صحیح تعبیر کی جائے تو اس سے نبوت محمدی کا اثبات ہوتا ہے اور اس کی غلط تعبیر کی جائے تو اس سے کلیسا کا مذہب برآمد ہو جاتا ہے تاہم مسیحی جانب نے اس نقطہ نظر سے بچنے کی کوشش کی اس کی کوشش یہ رہی کہ اس اختلافی بحث کو نظر انداز کر کے اتفاق کی مشترک بنیادیں تلاش کی جائیں ۔

مسیحی جانب کے بعض ذہین لوگوں نے یہ کوشش کی کہ مسیحیت کے جو عقائد اسلام کی نظر میں قابل اختلاف ہیں، ان کی ایسی خوبصورت تاویل کی جائے کہ وہ قابل قبول نظر آنے لگیں مثلاً مسیح کے ابن اللہ ہونے کا معاملہ ۔ ایک مسیحی نمائندہ ڈاکٹر شوبیکل نے کہا کہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا مطلب دراصل بشریت کے اعلیٰ معیار کو مثل کرنا ہے۔ انسان ایک بشر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعہ اس کو خدا جیسا بننا ہے۔ مسیح کا خدا کا بیٹا ہونا اعلیٰ ترین انسانی بلندی کی تمثیل ہے۔ مگر یہاں فوراً یہ سوال تھا کہ مسیح کا ابن اللہ ہونا اگر تمثیلی معنوں میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان خدا کا بیٹا بن سکتا ہے۔ اس تعبیر کے بعد کفارہ کے عقیدہ کے لئے کوئی بنیاد نہیں رہتی جس پر موجودہ مسیحیت کی ساری عمارت قائم ہے ایک ملاقات میں میں نے ڈاکٹر شوبیکل کے سامنے یہ سوال رکھا تو انھوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر بلاشبہ ویٹیکن کے سرکاری عقیدہ کے خلاف ہے۔ مگر ہمارے یہاں فکری آزادی ہے۔

وہ واحد مسئلہ جس پر دونوں فریقوں کا سب سے زیادہ اتفاق ہو سکا وہ ” انحراف الشباب في جانبين“ کا مسئلہ تھا۔ یہ مسلم اور عیسائی دونوں معاشروں کا مشترک مسئلہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page