تاریخ کا ایک سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۵
ہے کہ نوجوان طبقہ مذہبی روایات سے کٹ کر الحاد کی طرف چلا جارہاہے۔ متفقہ طور پر یہ رائے سامنے آئی کہ اس مسئلہ کے مقابلہ کے لئے دونوں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ مگر اس معاملہ میں کوئی ٹھوس پروگرام وضع نہ کیا جاسکا۔ ایک صاحب نے ’’بدار الحوار مع الملحدین‘‘ کی تجویز پیش کی۔ یعنی جس طرح مسلمان اور عیسائی یہاں بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں، اسی طرح ملحدین سے بھی گفتگو کا آغاز کیا جائے؛ مگر یہ کوئی تجویز نہیں اس قسم کی باتیں صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ کے احساس کے باوجود اس معاملہ میں ابھی تک زیادہ گہرائی سے سوچا نہیں جاسکاہے۔
راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ 99 فی صد لوگ وقت اور موضوع کے حدود میں رہ کر بولنا نہیں جانتے۔ طرابلس کا سمینار بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا۔ بیشتر تقاریر اور مقالے غیر ضروری طور پر طویل اور موضوع سے ہٹے ہوئے تھے۔ ایک شخص کھڑا ہو کر یہ کہتا: انی لا احب الاطالة عليكم اور جب اس اظہار کے باوجود اس کی تقریر لمبی ہوجاتی تو آخر میں معذرت کرتا کہ : ايها الاخوة اشكركم علی صبركم۔ ایک شخص اصل موضوع سے ہٹ کر کسی دوسرے موضوع پر لمبی تقریر کر ڈالتا اور پھر یہ کہہ کر حاضرین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا: فما اظن انی قد ابتعدت عن الموضوع۔ کوئی شخص مختصر وقت میں اپنی تقریر ختم کردیتا تو یہ اتنی نادر چیز ہوتی کہ صدر جلسہ اس کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی ادا کرتا: اشکر خاصة علی تَقَيُّدِهِ بالوقت المحدد ندوة الحوار الاسلامی المسيحی میں ایک جرمن پادری سے میں نے بائبل کے عربی ترجمہ کی خواہش ظاہر کی۔ اگلے دن اس نے نہایت عمدہ چھپائی اور نہایت عمدہ جلد کے ساتھ عربی انجیل کا ایک نسخہ مجھے ہدیہ پیش کیا۔ میں نے کہا۔ کیا مکمل بائبل عربی میں مل سکتی ہے۔ اس نے کہا ضرور۔ یہاں تو ہمارے پاس اس کا کوئی نسخہ موجود نہیں ہے۔ البتہ آپ اپنا پتہ دے دیجئے، ہم جرمنی سے بھجوادیں گے مسیحی مشنرین اپنی مقدس کتاب ہر زبان میں سارے عالم میں پھیلا رہے ہیں۔ کاش اسی طرح ہم قرآن کو ہر زبان میں ساری دنیا میں پھیلا سکیں۔
فروری کی ۳ تاریخ تھی اور شام ۶ بجے کا وقت۔
طرابلس کے مسرح التحریر میں ۶۰ سے زیادہ ملکوں کے تقریبا پانچ سو مسلمان اور عیسائی جمع تھے۔ اچانک کارروائی رک گئی۔ لوگ گیٹ کی طرف دوڑ پڑے۔ فوٹو گرافر بھاری کیمرے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے مسلسل شاٹ لینے لگے۔ معلوم ہوا کہ لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی آئے ہیں۔ وہ بالکل اچانک آئے تھے۔ لوگوں نے کوشش کی کہ ان کو ڈائس پر لے جائیں۔ مگر وہ عام لوگوں کے ساتھ ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گئے اور نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی سننے لگے۔
دبلا پتلا سا ایک آدمی، کھلا سر، کالے رنگ کا معمولی کوٹ پتلون جس پر ٹائئ بندھی ہوئی نہیں تھی۔ ہر قسم کے نشان سے خالی ایک معمولی آدمی کی طرح اپنی کرسی پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔
کارروائی بدستور جاری رہی۔ درمیانی وقفہ کے بعد دوسری نشست میں لوگوں نے صدر قذافی سے اصرار کیا تو وہ ڈائس پر گئے۔ وہاں بھی کسی امتیازی نشست پر نہیں بیٹھے بلکہ ایک عام کرسی پر بیٹھ گئے۔ درمیان میں تین بار انھوں نے لوگوں کی فرمائش پر تقریر کی ۔ تینوں تقریریں سادہ الفاظ کے ساتھ کسی تمہید کے بغیر شروع ہوئیں اور بالکل اچانک ختم ہو گئیں ۔ مسیحی جانب نے مذہب کا روحانی تصور پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ مذہب کو حکومت وغیرہ کے معاملات میں دخل نہیں کرنا چاہئے۔ مذہب کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ قوت محرکہ (MOTIVE FORCE) کے طور پر تمام سرگرمیوں میں کام کرے۔ صدر قذافی نے اس کا جواب دیتے ہوئے اپنی تقریر میں کہا کہ ویٹیکن میں تو عیسائیوں کی حکومت قائم ہے۔ وہ کیسے ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues