Al-Risala · October 1976 · page 56

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۶

شائیکیں۔ روزنامہ الفجر الجدید ( طرابلس) کے ہفتہ وار ایڈیشن الاسبوع الثقافی ۲۶، مارچ ۱۹۷۶) میں جو تفصیلی انٹرویو شائع ہوا تھا اس کے ابتدائی حصے کا ترجمہ مقابل کے صفحہ پر درج ہے۔ روزنامہ الجہاد (۵ فروری ۱۹۷۶) کے صفحہ ملاقات کا پہلا پیراگراف یہ تھا من مفكرى الاسلام المشاركين في اعمال الحوار المفكر الاسلامی وحید الدین خان رئیس تحرير مجلة ( الجمعية الاسبوعية ) التي تصدر في دلهى بالهند وصاحب الكتاب الشهير ( الإسلام يتحدى ) . حول دراساته الاسلامية الحديثة قال ( للجهاد ) انه قد انتهى من اعداد دراسة شاملة تصدر في كتاب يَحْمِلُ عنوان ( الأسلام ) يبرز فيه الحقائق الأساسية للأسلام بين سكر الباكسـتان كتاب ( (إِلَهُ واحد و انسان واحد و نظم واحد ) سمینار کے بعد طرابلس میں دو ماہ قیام رہا۔ بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ بہت سے اجتماعات میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس کا ذکر علیحدہ تفصیل چاہتا ہے ۔ ۶ فروری کو معمر قذافی (صدر جمہوریہ لیبیا) سے بھی ملاقات ہوئی فوراً ہی انھوں نے کہا ’’ میں آپ کی کتاب الاسلام تحدی پڑھ چکا ہوں “ عربی میں یہ کتاب اب تک دس سے زیادہ بار چھپ چکی ہے اور پورے عالم عرب میں پھیلی ہے۔ انھوں نے کتاب کو ایک عظیم کتاب بتایا۔ ملاقات کے دوران صدر قذافی نے اپنے ایک ساتھی سے راقم الحروف کا تعارف کراتے ہوئے کہا: ھو مفکر و مؤلف کبیر وَنَحْنُ نُقَدِّرُهُ۔ الجہاد (طرابلس) ۸ فروری ۱۹۷۶ صدر قذافی انتہائی سادہ آدمی ہیں۔ بظاہر ان کو دیکھ کر کسی قسم کی عظمت کا تصور نہیں ہوتا “ یہی وہ آدمی ہے جو جہازوں تک سے مسلح تھی ، کوئی بھی کارروائی کرنے کی مکمل قدرت رکھتی تھی مگر انھوں نے جان پر کھیل کر ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور اچانک اعلان کر دیا :

قامت قواتک المسلحة آپ کی مسلح فوجوں نے بالاطاحة بالنظام رجعت پسند متخلف اور بدعنوان الرجعي المتخلف المتعفن حکومت پر قبضہ کر لیا ہے وهكذا من الآن تعتبر آج سے لیبیا آزاد اور ليبيا جمهورية حرة بااختیار ہوگا اور اس کا ذات سيادة تحت اسم نام ہوگا " جمہوریہ عربیہ الجمهورية العربية لیبیا الليبية رئیسی ابنی)

اس سمینار کا سب سے زیادہ مؤثر حصہ اس کا خاتمہ تھا۔ دونوں طرف کے نمائندوں نے نہایت مخلصانہ لیبیا کا حکمران ہے جس کے ہاتھ میں پرو ڈالر کے خزانے ہیں “ میں نے سوچا ” اس معمولی سے آدمی میں وہ کون سی خصوصیت ہے جس نے اس کو اس مقام تک پہنچایا؟ اور پھر میرے دل نے جواب دیا ” خطرہ (RISK) مول لینے کی صلاحیت “ یکم ستمبر ۱۹۶۹ء کو جیب قاریونس کے معسکر (بیرک) سے اس معمولی افسراور اس کے ساتھیوں نے بن غازی کی طرف مارچ کیا تو ہر لمحہ ان کے لئے موت کا لمحہ تھا۔ سابق شاہ ادریس اگرچہ اس وقت ترکی میں تھے مگر ان کی سیکیورٹی فورس جو ہوائی جذبات کا اظہار کیا۔ مسلم نمائندہ نے کہا : اذا مشیتم الینا میلاً مشینا الیکم میلین، واذا اتیتم الینا مصافحین هر دلنا الیکم معانقین۔ مسلم نمائندہ نے رواداری کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا : نحن بما عندنا وَأَنْتُمْ بما عندکم ولكل رای ۔ مسیحی نمائندوں کا رویہ بھی نہایت دوستانہ تھا۔ ایک مسلم نمائندہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ وہ فلاں مسیحی نمائندہ سے لاتو گفتگو کے دوران اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کے بعد مسلم نمائندہ نے یہ آیت پڑھی : وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبُهُم مَّوَدَّةً

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page