Al-Risala · October 1976 · page 57

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۷

لِّلَّذِيْنَ آمَنُوْا ... (مائدہ ۸۳ - کانفرنسوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جنہوں نے کانفرنس ہال کے باہر اپنی عملی بنیاد تیار رکھی ہو تاہم یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ تقریروں کے ساتھ تالیوں کی دھوم تھی۔ مگر جب ایک مسلم نمائندہ نے کہا "ہم گواہی دیتے ہیں کہ عیسیٰ کلمہ اللہ تمام انسانوں کی طرف خدا کے پیغمبر تھے۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف خدا کے پیغمبر ہیں" تو مسلمانوں نے دیر تک تالی بجائی مگر مسیحی نشستوں پر خاموشی طاری رہی۔

۶ فروری کی شام کو سیمینار کا خاتمہ انجیل اور قرآن کی تلاوت پر ہوا۔ دونوں تلاوتیں ایک عیسائی عالم نے کیں۔ پہلے اس نے انجیل (متی باب ۲۵) عربی میں پڑھی۔ پڑھنے والا پادری نہایت خوش الحان تھا اور خالص عربی لہجہ میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد اسی پادری نے قرآن (بقرہ، آخری آیات اور سورہ علق کی کچھ آیات) پڑھیں۔ دونوں تلاوتیں اس نے تجوید اور قرات کے تمام قواعد کے ساتھ کیں۔ قرآن کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کیا اور آخر میں صدق اللہ العظیم کہا۔ اصل انجیل بلاشبہ ایک خدائی کتاب تھی۔ مگر اس کا موجودہ عربی ترجمہ ظاہر ہے کہ انسان کے قلم سے ہے۔ اس کے برعکس قرآن کی زبان الہامی زبان ہے۔ جب دونوں کتابوں کے حصے ایک ساتھ پڑھے گئے تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے اور وہ خدائی کلام۔ انجیل کی قرأت میں ساری کوشش کے باوجود کوئی شکوہ پیدا نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج رہا تھا۔ اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتلانے کے لئے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے نہ کہ کوئی انسانی کلام۔ الحوار الاسلامي المسيحي ہاشم مسلم عیسائی سیمینار کے بارے میں یہ عربی کارٹون طرابلس کے اخبار الجہاد (۸ فروری ۱۹۷۶ء) سے لیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page