تاریخ کا ایک سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۴
اُس کا حکم تھا کہ موت کا لفظ اس کے سامنے بولا نہ جائے مگر عمر کے ساٹھویں برس پر پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا اسپین کے ڈکٹیٹر فرینکو کئی دن بیماری سے جنگ کرنے کے بعد آخر کار اس دنیا سے چل بسے اب اس قسم کے دو لیڈر بچے ہیں، وہ ہیں یوگوسلاویہ طور پر منجمّد کر دیتے علاوہ بریں کیا یہ بات اخلاقی اصول کے مطابق ہے کہ قوم کے کسی لیڈر کی زندگی مصنوعی طور پر لمبی کرنا چاہیے یا کہ اسے لمبا کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ میڈلیشن کی دنیا میں ایک زبردست بحث چھڑنے کا سبب ہو سکتی ہے۔ بہت سے اسکالروں نے اس موضوع پر بحث کی ہے۔
یہ امر غیر معمولی طور پر اتفاقیہ ہے کہ اس معاملہ پر ایک کتاب ابھی حال ہی میں شائع ہوئی ہے جس کی تصنیف پر ۱۳ سال لگ گئے تھے۔ مشہور مورخ پال مرے کینڈال نے یہ کتاب فرانس کے ۱۱ ویں بادشاہ لوئی کے بارے میں لکھی ہے جسے مرے ۵۰۰ برس ہو چکے ہیں۔ لوئی ایک ایسا بادشاہ تھا جو مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے اُس نے بہت کوشش کی کہ اُس کی زندگی کو طوالت دی جائے۔ ماؤ، ٹیٹو اور فرینکو کی مانند بادشاہ لوئی ایک ایسی قوم جس کی مرکزی سرکار بہت مضبوط تھی، بنانے کے لئے ذمہ دار تھے۔ اور جو اُن کے آنکھ بند کرنے کے بعد انتشار یا خانہ جنگی کا شکار ہو سکتی تھی اُسے اس بات کا بخوبی علم تھا، جیسا کہ ہمارے جدید کے مارشل ٹیٹو اور چین کے ماؤسی تنگ ۔ دونوں کی عمر ۸۰ برس سے زیادہ ہے۔
فرینکو کا عرصہ حیات لمبا کرنے کی غرض سے سپین میں ڈاکٹروں نے جو رات دن کوشش کی اُس سے میڈیکل حلقوں میں بڑی زبردست بحث چھڑ گئی تھی کہ کیا اُس وقت جبکہ قدرت کے تمام قوانین کے مطابق اُن کے حواس جواب دے چکے تھے، انہیں کچھ ہفتہ پیشتر ہی مرنے دینا چاہیے تھا؟ یا کیا ڈاکٹر اس بات میں حق بجانب تھے کہ ہر قسم کی میڈیکل امداد اُنہیں مہیا کر کے کچھ دیر تک اور جسمانی طور پر زندہ رکھنے کے لئے اُن کے درجہ حرارت کو خبر رہی زمانہ کے لیڈروں کو علم ہے۔ ایک جیسے مسائل کے لئے اُس کے حل بھی ویسے ہی تھے۔ لوئی کی عمر ۵۸ سال کی تھی جب اُس پر فالج کا حملہ ہوا تھا۔ اُسے تب اِس امر کا علم ہو گیا کہ وہ بہت دیر تک زندہ نہ رہ سکے گا۔ کیونکہ اُس کے پریوار میں کوئی بادشاہ اپنا ۶۰ واں جنم دن منا نہ سکا تھا۔
لوئی کسی محفوظ قلعے میں امن و شانتی سے رہنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اُس نے ایک محل میں رہنا شروع کیا جہاں بہت کم لوگوں کو داخلہ کی اجازت تھی۔ اس محل کی طرف جانے والی سڑکوں پر جنگلے لگا دیئے گئے تھے، اور محل کے چاروں طرف خندق کھوددی گئی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues