Al-Risala · October 1976 · page 60

تاریخ کا ایک سبق

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶۰

چالیس تیر انداز پتھروں کی دیواروں پر بیٹھے ڈیوٹی دیتے رہتے تھے۔ انھیں حکم تھا کہ اگر کوئی اجازت کے بغیر محل کے نزدیک آنے کی جرات کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ علاوہ بریں ۴۰۰ گھوڑ سوار دن رات علاقہ میں گشت کرتے رہتے تھے۔ محل کے اندر لوئی بڑی عیش پرستانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اُس کے کمرہ میں خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں، ماہر راگی اپنا راگ سنا کر اسے خوش رکھتے۔ بڑے بڑے پنجروں میں بند کتے اور پرندے جو وہاں رکھے ہوئے تھے اسے بہت پسند تھے۔ زیادہ تر وقت وہ اپنے جسم کو اکٹھا کئے اور قابل رحم حالت میں آرام کرسی پر ہی گزار تا تا۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت باغ تھا۔ جسے وہ اپنے محل کی دوسری منزل سے دیکھتا رہتا۔

اگرچہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہو چکا تھا۔ اپنی قوم کی زندگی اور موت اُس کے اختیار میں تھی۔ اس پر بھی وہ فکر مند تھا کہ اپنی رعایا پر یہ امر کیسے واضح کرے کہ وہ سب سے بڑا حکمران ہے۔ اُس کو سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ اختیارات کا خواہشمند کوئی امیر، زندہ ہے۔ اُس کے ہم عصر ایک مورخ نے اُس کی نسبت تحریر کیا ہے۔ ” اُس نے یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ وہ ابھی تک حکمران ہے ہر قسم کی چال چلی۔ وہ افسروں کو ڈسمس کر دیتا اور اُن کی جگہ نئے افسر مقرر کر دیتے جاتے۔ کسی کی وہ تنخواہ کم کر دیتا تو کسی کی تنخواہ میں اضافہ کر دیتا۔ اُس نے اپنا وقت افسروں کو مقرر کرنے اور اُن کا بھٹہ بٹھانے میں صرف کیا تھا۔ “ لیکن یہ سب کچھ کافی نہ تھا۔ اِواں لوئی ایک عظیم شکاری تھا۔ جانوروں سے وہ بہت انس کرتا تھا۔ اِس نے گھوڑے اور کتے منگانے کے لئے یورپ بھر میں اپنے نمائندے بھیجے ۔ اور مارکیٹ کی قیمت سے بھی زیادہ دے کر اُنہیں خریدا۔ چنانچہ اٹلی، سویڈن اور جرمنی سے گھوڑے اور کتے آنے شروع ہو گئے۔ جب وہ اُس کے محل میں پہنچ جاتے، اُس کی صحت کمزوری کے سبب اس امر کی اجازت نہ دیتی کہ وہ انھیں دیکھ بھی سکے۔ یا جو لوگ اُن کو خرید کر لائے ہیں اُن سے بات تک بھی کر سکے۔ لیکن اِسے علم تھا کہ سارے یورپ میں منصب دار اسے ہٹا کر خود اقتدار نہ سنبھال لے اور اُسے اپنے آخری ایام ایک دیوانہ بوڑھے کی مانند گزارنے نہ پڑیں۔

اپنے بڑھاپے میں لوئی ہر ایک پر شبہ کرنے لگا تھا۔ اُسے اپنے پرانے ملازموں پر بھی شک تھا۔ چنانچہ انہیں ہٹا کر اُن کی جگہ اُس نے غیر ملکی بھرتی کر لئے تھے۔ اور پھر اُن کو اور اُن افسروں کو بھی جو اس اُس کی اِس خبر بیداری پر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ وہ ابھی تک زندہ تھا۔

اپنی صحت بحال کرنے کا وہ اتنا آرزومند تھا کہ اُس نے اِس امر کا حکم دے رکھا تھا کہ موت کا لفظ اُس کے سامنے بولا ہی نہ جائے۔ اُس کا ذاتی معالج اِس کے ایک نوکر کی مانند کام کرتا تھا۔ اور بادشاہ کا وہ پسندیدہ بن گیا تھا۔ اُسے ... ر ... ا سنہری کراؤن کی حفاظت کے لئے مامور تھے۔ وہ متواتر تبدیل کرتا رہتا تھا۔ وہ اُن سے یہی کہا کرتا کہ قدرت کو تبدیلی بہت پسند ہے؟ سرکار کے کام کاج میں حصہ لینے کے لئے وہ کافی بوڑھا ہو چکا تھا۔ اُسے یہ فکر دامنگیر تھی کہ شاید ر مایا اس بات کو بھی بھول جائے کہ وہ ابھی تک ماہوار دیے جانے لگے تھے۔ اس وقت یورپ کے کسی میدان جنگ میں ۴۰ برس کام کر کے بھی ایک فوجی افسر اتنی رقم کما نہ سکتا تھا۔ اگر کوئی شخص اُس کی زندگی میں ایک دن کا بھی اضافہ کر سکے تو وہ اپنا سارا خزانہ لٹانے کو تیار تھا۔ ۲۳ جولائی ۱۸۸۳ء

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page