تاریخ کا ایک سبق
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۹۱
اس کی پرارتھنا سہل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت ہوئی۔ تاہم لوئی اسے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہشمند تھا کہ اس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اس جوگی کے لئے سنگترے خریدنے کے لئے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے ضرور خریدے جائیں۔
لوئی پر پھر فالج کا حملہ ہوا اور ۳۰ اگست کو وہ اس دنیا سے چل پڑا۔ اس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے۔
”میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ “ فرانس کے عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ کس طرح سے اپریل ۱۹۷۴ء میں صدر جارج پومپیڈو نے جب وہ کینسر کی وجہ سے مر رہے تھے اپنے آخری بیان میں کہا تھا۔
”میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ “ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔ آخرکار ۱۱ ویں لوئی کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا۔ (ماخوذ)
کو جب اُس کا ۶۰ واں جنم دن نزدیک آنے والا تھا وہ اور بھی فکر مند ہوگیا۔ اُس وقت وہ اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ وہ مشکل سے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال سکتا تھا۔
اٗس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اٗس نے ہزاروں سنہری سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع کر دیے۔ اُس نے تین بحری جہاز دے کر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ کو بھیجے، تاکہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اِس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔
اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاجپوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم کا تلک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ کریم ۱۹۷۶ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا کی تھی۔ اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے اس مقصد کے لئے جٹایا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے۔ آخر کار نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اس کے محل میں لایا گیا کہ ایجنسی کی شرائط ۱۔ الرسالہ کی جتنی تعداد ہرماہ مطلوب ہو، اس کے مطابق پوری رقم بطور ضمانت دفتر الرسالہ میں جمع کرنا۔ (مثلاً ماہانہ دس پرچوں کے لئے ۲۰ روپے) ۲۔ کم از کم دس پرچوں پر ایجنسی دی جائے گی۔ ۳۔ کمیشن ۲۵ فیصد ۴۔ مطلوبہ پرچے کمیشن وضع کرکے ہرماہ بذریعہ وی۔ پی روانہ ہوں گے۔ ۵۔ ڈاک اور پیکنگ خرچہ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔ منیجر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues