الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶۶
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶۶
ستمبر 1976کی 26تاریخ تھی اور ساڑھے دس بجے کا وقت۔ عید کی نماز ختم ہو چکی تھی میں جامع مسجد دہلی کی مشرقی سیڑھیوں سے ایک حیرت ناک منظر دیکھ رہا تھا۔ ایک طرف شاہجہانی مسجد اپنی تین سو سالہ عظمتوں کو لئے ہوئے کھڑی تھی۔ سامنے لال قلعہ کی اونچی دیواریں افق کو چھورہی تھیں۔ درمیان میں ہرا بھرا پارک اور سرخ پتھروں سے بنا ہوا مینا بازار۔ اور پھر حد نظر تک تمام سڑکوں اور راستوں میں انسانوں کا حرکت کرتا ہوا سمندر، جو نماز عید سے فارغ ہو کر اپنے اپنے ٹھکانوں کو واپس جا رہا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ایک تاریخ کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ ایک زمانہ تھا کہ جامع مسجد، لال قلعہ اور مینا بازار کا یہ مجموعہ دہلی کا مرکز تھا۔ ہر قسم کی مذہبی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیاں یہاں سے شروع ہو کر دارالسلطنت میں پھیلتی تھیں اور پھر پورے ملک کو متاثر کرتی تھیں۔ مگر حالات نے دھیرے دھیرے اس کو ڈھک لیا تھا۔ حکومت نے از سر نو اس پورے علاقے کی صفائی کرائی اور اس کی تزئین و تعمیر کر کے اس کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ ملک کی عظیم ترین تاریخ دوبارہ مسلمانوں کے نام الاٹ کر دی گئی۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ مسلمان ان ملے ہوئے مواقع کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ لایعنی مشغلوں اور پر جوش تقریروں میں انھیں ضائع کر دیتے ہیں یا ان کو ایک نئی تعمیر کا عنوان بناتے ہیں۔ ہر نیا مواقع بیک وقت دونوں امکان لے کر آتا ہے۔ یہ موقع پانے والوں کے عزم و ہمت کا امتحان ہے کہ دونوں میں سے کس امکان کو وہ اپنے لئے واقعہ بناتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues