وہ ابھی تک دستکاری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳
وہ ابھی تک دستکاری
وہ لوگ جو اپنے میں اردو کا امین اور وارث سمجھتے ہیں، ان کے اندر ایک عجیب و غریب خصوصیت ہے جس کو شاید ساری دنیا میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے کے دور میں ہیں مطلب کتابت کو مشینی ضرب دینا ہے۔ ایک ماہر کا تب کے عمل کو جب ٹائپ میں ڈھال دیا جائے تو اتنے ہی وقت میں لاکھوں صفحے اسی خوش نما ڈیزائن کے ساتھ چھپ کے آسکتے وہ کسی گروہ کی برائیوں کو لے لیتے ہیں اور اچھائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔
انھوں نے انگریزوں سے ان کی تہذیب لی، مگر ان کی سائنس نہ لی۔ نو آبادیاتی ماحول سے سیاست لی مگر تعمیر نہ لی۔ عیسائیوں سے مناظرہ بازی لی مگر مشنری اسپرٹ نہ لی۔ وغیرہ وغیرہ اسی سلسلے کی ایک مثال یہ ہے کہ اردو کی قوم نے ایرانیوں سے ادبی لفظی اور شاعرانہ تخیل تو اتنی زیادہ لی کہ پوری زبان اس کے سانچے میں ڈھل گئی، مگر جدید دور میں جب ایرانیوں نے کتابت کے طریقے کو چھوڑ دیا اور اس کو آرٹ کے لئے خاص کرتے ہوئے اپنی عام چھپائی کے لئے عربی ٹائپ کو معمولی ترمیم کے ساتھ اختیار کر لیا تو اردو والوں نے اس دوسرے معاملہ میں ایران کی نقل نہ کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اردو آج دنیا کی تمام زبانوں میں سب سے زیادہ پس ماندہ زبان ہے۔ عربی، فارسی اور ہندی جو اردو کی جدّی زبانیں ہیں ٹائپ اختیار کر کے ترقی کر رہی ہیں، اور اردو مشینی عہد میں بھی اب تک دستکاری کے دور سے گزر رہی ہے۔ اردو کی ترقی میں اس کے مزاج پر ادبیت کے غلبہ کے بعد دوسری سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ابھی تک اس میں ٹائپ کا رواج نہ ہو سکا۔ ٹائپ کا ہیں جتنی دیر میں کاتب نے ایک صفحہ لکھا تھا۔ خوش قسمتی سے اردو کے لئے ہم کو نیا ٹائپ ایجاد کرنے کی ضرورت نہیں۔ عربی اور فارسی کا ٹائپ معمولی تبدیلی کے بعد اردو میں نہایت کامیابی کے ساتھ استعمال ہو سکتا ہے۔
عربی ٹائپ کو اردو کے لئے اختیار کرنے کا مزید جو لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہو جائیں، وہ صرف تاریخ کا موضوع بن کر رہ جاتے ہیں جس طرح دو سو برس پہلے کا یہ ہینڈ پریس اب صرف میوزیم میں دکھائی دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues