Al-Risala · December 1976 · page 4

وہ ابھی تک دستکاری

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴

ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قرآن کا رسم الخط اور ہماری مادری زبان کا رسم الخط دونوں ایک ہو جاتے ہیں مگر یہ دو طرفہ خوش قسمتی بھی ہمارے لئے کسی اقدام کا محرک نہ بن سکی۔

الرسالہ کے پروگراموں کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ دہلی یا کسی دوسرے مرکزی مقام پر عربی ٹائپ کا پریس قائم کیا جائے ۔ ہندوستان میں ایک اچھے عربی پریس کی شدید ضرورت ہے۔ یہ پریس نہ صرف عربی کتابوں کی طباعت کی ضرورت کو پورا کرے گا۔ بلکہ الرسالہ اور دوسری اردو کتابوں کو ٹائپ میں چھاپنے کا اہتمام بھی کرے گا۔ ہماری تمنا ہے کہ وہ دن آئے جب ادارہ الرسالہ کی ساری چیزیں ٹائپ میں چھپ رہی ہوں۔ ہمارا یہ اقدام شاید اس دور کا آغاز بن جائے جب کہ اردو زبان کا تمام کام ٹائپ میں ہونے لگے ، اور دوسری لسانی قومیتوں کی طرح ہم دستکاری کے دور سے نکل کر سائنس کے دور میں پہنچ چکے ہوں ۔ اردو قوم کی ایک عجیب وغریب خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ خرید کر پڑھنا نہیں جانتی۔ ایک "رسالہ" اگر کسی کو پسند آ جائے تو اگلے دن ایڈیٹر کو ایک خط ملے گا جس میں رسالہ کی تعریف کے بعد فرمائش ہوگی کہ اس کے "ادارہ" کو رسالہ اعزازی طور پر جاری کر دیا ملی تعمیر کا کام سب سے پہلے ملت کے افراد میں شعور پیدا کرنے کا کام ہے اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ الرسالة کو ایک ایک بستی اور ایک ایک گھر میں جائے ۔ اس کی پسندیدگی اس کے لئے اس بات کا محرک نہیں بنے گی کہ وہ خود باقاعدہ خریدار بنے اور دوسروں کو اس کا خریدار بنائے ۔ وہ اعزازی پرچہ کے حصول کے لئے ایک خط لکھ دینا کافی سمجھتا ہے اور بس ۔ اردو کی ترقی میں یہ دوسرا عامل بھی اتنی ہی بڑی رکاوٹ ہے جتنا کہ پہلا عامل ۔

ایک ایک سرمہ پہنچایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page