Al-Risala · December 1976 · page 5

وہ ابھی تک دستکاری

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵

پانچویں نہ بنو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے ایک حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كن عالما او متعلما او مستمعا او محبا ولا تكن الخامس فتهلك تم علم کو جاننے والے بنو یا علم کو سیکھنے والے یا علم کو سننے والے یا علم سے محبت کرنے والے، اور پانچویں نہ بنو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔

اس حدیث میں علم سے مراد وہ علم ہے جو آدمی کو اللہ اور اللہ کی باتوں سے باخبر کرے ۔ لوگوں میں کوئی پڑھا لکھا ہوتا ہے، کوئی جاہل کوئی ذہین ہوتا ہے کوئی غبی۔ اس لئے آدمیوں کی مختلف حالت کے اعتبار سے آپ نے چار درجے مقرر کر دیئے ۔ اور فرمایا کہ ہر حال میں تم کو ان چار درجوں میں سے کسی ایک درجہ پر ہونا چاہئے۔

یا تو تم وہ شخص بنو جس نے خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرکے دین خداوند ی کو بخوبی سمجھ لیا ہو اور اس کے لئے وہ ضروری محنت و ریاضت کرلی ہو جو آدمی کو صحیح معرفت تک پہنچاتی ہے۔ اگر یہ مقام تم کو حاصل نہ ہو تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اپنی اس کمی سے آگاہ ہو اور اس کو پورا کرنے کے لئے علم حقیقی کو سیکھنا شروع کرد و، قرآن وسنت کے طالب علم بن جاؤ۔ اگر تم اپنے حالات کے لحاظ سے یہ بھی نہ کرسکو تو تیسرا درجہ یہ ہے کہ تمھارے اندر اس واقعہ کا اعتراف پیدا ہو جائے کہ تم نہ صاحب علم ہونہ طالب علم۔ ایسی حالت میں تمھارے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ تم سننے والے بن جاؤ۔ جہاں کہیں خدا کی باتیں ہوں، تم وہاں خاموشی سے بیٹھو اور جو کچھ بتایا جارہا ہو اس کو غور سے سنو۔ پھر اگر کوئی اس درجہ پر بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی اس محرومی کا احساس کرے۔ اور اس احساس محرومی کا کم سے کم تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں ان لوگوں کے لئے محبت پیدا کرے جو اس متاع علم میں اپنا حصہ پائے ہوئے ہیں جس سے وہ اپنا حصہ نہ پاسکا۔ یہ چوتھا درجہ ہے جہاں کوئی مومن اس دنیا میں ہو سکتا ہے ۔

اس کے بعد جو پانچواں درجہ ہے وہ ہدایت کا نہیں بلکہ گمراہی کا درجہ ہے۔ وہ یہ کہ آدمی علم حقیقت سے باخبر نہ ہو، اس کے باوجود بحث و نزاع کرے، وہ علم دین کے بجائے کسی اور علم کا متعلم بن جائے۔ وہ سننے اور سیکھنے کے لئے ان مجالس کا انتخاب کرے جہاں دین کی باتیں نہیں ہوتیں۔ حتی کہ اس کے دل میں محبت و احترام بھی ان لوگوں کے لئے ہو جائے جو علم دین کے مالک تو نہیں ہیں البتہ دوسری قسم کی مہارتوں میں کمال رکھتے ہیں یہ انسان کی پانچویں حالت ہے اور جو اپنے آپ کو اس حال پر پائے اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ہلاک ہوگیا۔ الا یہ کہ وہ واپس لوٹے اور مذکورہ چار میں سے کوئی ایک بننے کی کوشش کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page