وہ ابھی تک دستکاری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶
وہ سچائی کے ایک معلم کا انتظار کر رہے تھے، مگر جب سچائی کا معلم آیا تو انھوں نے اس کو نہ ماننے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں تلاش کرلیں ۱۹۴۷ کا واقعہ ہے۔ ایک بدوی قبیلے کے کچھ افراد شرق اردن کے علاقہ سے فلسطین کی طرف جا رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس کچھ غیر قانونی اشیاء تھیں، اس لئے انھوں نے عام گزرگاہ کو چھوڑ کر پہاڑی راستہ سے فلسطین میں داخل ہونا چاہا۔ اس سفر میں وہ بحر مردار کے شمال مغربی کنارے پر پہنچ گئے جس کو وادی قمران کہا جاتا ہے۔ یہاں وہ کچھ دیر آرام لینے کے لئے رکے۔ انھیں قریب کی پہاڑی میں ایک کھوہ نظر آیا۔ ان میں سے بعض افراد کھوہ کے اندر گھسے ۔ حیرت انگیز طور پر انھوں نے پایا کہ کھوہ کے اندر کچھ مٹی کے برتن رکھے ہوئے ہیں۔ وہ ان کو نکال کر باہر لائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اندر شاید قدیم زمانہ کے سکے ہوں گے۔ مگر ان کے اندر سکوں سے بھی زیادہ قیمتی چیز تھی۔ یہ بائبل کے ابواب تھے جو قدیم طرز کے طومار میں لکھے ہوئے تھے اور ان کو حفاظت کی غرض سے ان برتنوں میں بند کر دیا گیا تھا۔
بدؤوں نے اولاً اس کو فلسطین کے ایک مسلم شیخ کے سامنے پیش کیا۔ اس نے سمجھا کہ یہ سریانی زبان کا کوئی مخطوطہ ہے۔ اس کے بعد وہ لوگ کئی آدمیوں کے پاس ہوتے ہوئے یروشلم کے ایک یہودی کے پاس پہنچے۔ یہودی نے دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ یہ عبرانی زبان میں ہے اور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کے کچھ اجزاء کو خرید لیا۔ اس وقت سے اب تک ان کے بارے میں علماء کے درمیان زیر دست بحث وتحقیق جاری گول لپیٹے ہوئے چمڑے کے مسودات جو برتن کے اندر رکھے ہوئے ملے۔
رہی ہے۔ یہ کام تمام تر یہودی اور مسیحی علماء نے کیا ہے مسلمانوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ متعدد ہاتھوں میں گردش کرنے کے بعد اب یہ تاریخی ذخیرہ یروشلم میں اسرائیل کے قبضہ میں ہے۔
چمڑے کے یہ طومار تعداد میں گیارہ ہیں جن میں کل سات کتابیں لکھی ہوئی ہیں۔ ان کی زبان عبرانی ہے۔ ان میں سے اکثر کتا بیں مثلاًیسعیاہ حبقوق وغیرہ موجودہ بائبل میں شامل ہیں، جو دسویں صدی عیسوی میں مرتب کی گئی تھی۔ دونوں کے متن میں بنیادی یکسانیت کے باوجود مکمل یکسانیت نہیں ہے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے کچھ یہودی علماء نے بائبل کے متن کو محفوظ کرنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی۔ سائنسی طریقوں سے ان کی عمر کا جو اندازہ کیا گیا ہے اس کے مطابق علماء نے ان کا زمانہ ۷۰ ۔ ۶۷ء مقرر کیا ہے۔ یہ اتنے نازک ہو چکے ہیں کہ جب ان کو کھولنے کی کوشش کی گئی تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
یہ طومار جن کو ”ڈیڈ سی اسکرول“ کہا جاتا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues