وہ ابھی تک دستکاری
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۸
کے مطابق، یہ ہے کہ شاید ان میں سے بعض متعلقہ کتاب سے منتشر ہو کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ ان کی نسلیں عبرانی زبان بھول گئیں۔ دسویں صدی قبل مسیح میں بائبل کا یونانی ترجمہ تیار کیا گیا۔ اس ترجمہ کے بھی اب صرف نقل در نقل نسخے دنیا میں پائے جاتے ہیں۔
بعد کے دور میں بائبل کے جو قلمی نسخے رائج ہوئے ان میں بہت اختلافات تھے۔ دوسری صدی عیسوی میں کچھ یہودی علماء نے ان مختلف نسخوں کو سامنے رکھ کر ایک مستند متن تیار کیا۔ اسی کا نام آج عہد نامہ قدیم ہے۔
ہمارے اور آخرت کے درمیان صرف ایک غیر یقینی دیوار حائل ہے چنالا (دھنباد) میں ایک پرانی کوئلہ کی کان تھی جو ۱۹۴۵ء سے بند تھی ۔ ساڑھے چار سو فٹ گہری اس کان میں دھیرے دھیرے پانی بھر گیا۔ اس سے ۸۰ فٹ کے فاصلہ پر دو سال پہلے ایک اور کان کھودی گئی۔ عالمی بنک اور بیرونی ماہرین کی مدد سے تیار کی ہوئی یہ کان جدید طرز کی مشینریوں سے آراستہ تھی۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۶۹ء کو اس کان میں ایک بھیانک حادثہ ہوا ۔ دونوں کانوں کے درمیان ۸۰ فٹ کا فاصلہ کافی محفوظ فاصلہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اچانک اس کے اندر تقریباً ۸۰ فٹ چوڑا شگاف ہو گیا اور اس کے اندر سے پرانی کان کا پانی نئی کان میں اتنی تیزی سے داخل ہوا کہ صرف تین منٹ کے اندر نئی کان بھر گئی ۔ ۷۴ مزدور اور انجینئر جو اس وقت کان کے اندر کام کر رہے تھے ایک سو ملین گیلن سے بھی زیادہ پانی کے سیلاب میں غرق ہو گئے ۔ صرف ایک شخص بھگوان سنگھ (مونگیر) بچا جو حادثہ سے صرف چند منٹ پہلے باہر آ گیا تھا ۔ یہ واقعہ حیرت انگیز طور پر ہماری زندگی کی تصویر ہے۔ ہماری موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کے درمیان موت کی غیر یقینی دیوار حائل ہے ۔ ہر آن یہ اندیشہ ہے کہ یہ دیوار ٹوٹ جائے اور آخرت کے حقائق ایک بے پناہ سیلاب کی طرح ہمارے اوپر پھٹ پڑیں۔ اس وقت کوئی زور اور کوئی لفظی بازی گری کام نہ آئے گی۔ آدمی بالکل بے سہارا ہو کر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہو گا ۔ وہ سارے لوگ ناکامی اور بربادی کے دائمی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے جو دنیا کی دلفریبیوں میں اس قدر گم تھے کہ کوئی نصیحت کی بات سننے کے لئے تیار ہی نہ ہوتے تھے۔ ہر وہ شخص جو غاصر نے مالکِ کائنات کے سامنے حساب کے لیے پیش ہونے سے پہلے خود اپنا حساب کر کرنا ہوگا۔ آپ کے ہو گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues