Al-Risala · December 1976 · page 25

How to Stop Worrying and Start Living

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۵

دو کردار خوشی اور خفگی دونوں میں وہ انصاف پر قائم رہتے تھے یرموک کی لڑائی میں خالد بن ولید (م ۶۸ م ۶۳۶) اسلامی فوجوں کے سپہ سالار تھے اور ابو عبیدہ بن الجراح ان کے ماتحت افسر کی حیثیت سے جنگ میں شریک تھے۔ حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے خالد بن ولید کو معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار مقرر کر دیا اور خالد بن ولید کو ان کے ماتحت کر دیا۔ یہ فرمان لے کر مدینہ سے جو شخص روانہ ہوا تھا، وہ مقام جنگ پر اس وقت پہنچا جب کہ طویل مقابلہ کے بعد لڑائی اپنے آخری انجام کو پہنچنے والی تھی اور فتح کے مقدمات ظاہر ہو چکے تھے۔ قاصد نے یہ فرمان اولاً ابو عبیدہ بن الجراح کو دیا۔ ابو عبیدہ فرمان خلافت کے مطابق فوراً سپہ سالاری کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے کر فتح کا کریڈٹ وصول کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خالد بن ولید کی ماتحتی میں بدستور لڑتے رہے:

فَاخْفَى ابو عبيدة الخبر و صار في مكانه ابو عبیدہ نے خبر کو چھپایا اور خالد کی ماتحتی میں بدستور خلف خالد حتى ظهرت مقدمات النصر۔ اپنے کو باقی رکھا یہاں تک کہ فتح کے مقدمات ظاہر ہو گئے۔ وقد سئل عن عدم اخذہ لـواء القيادة ان سے پوچھا گیا کہ قیادت کا جھنڈا آپ نے فوراً کیوں نہ على الفور فقال : ما سلطان الدنیا اريد لے لیا۔ فرمایا : میں دنیا کی بڑائی نہیں چاہتا اور نہ دنیا وما للدنيا اعمل کے لئے عمل کرتا ہوں۔

آخرت کے لحاظ سے کریڈٹ یہ تھا کہ خبر کو چھپایا جائے۔ دنیا کا کریڈٹ اس میں ملتا تھا کہ اس کو ظاہر کر دیا جائے۔ ابو عبیدہ نے آخرت کا کریڈٹ لینا پسند کیا اور دنیا کے کریڈٹ کو نظر انداز کر دیا۔

اب خالد بن ولید کے کردار کو دیکھئے ۔ یرموک کی فتح کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس عظیم جنگ کے فاتح (خالد بن ولید) کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا گیا ہے تو ان کے اندر سخت بے چینی پیدا ہو گئی۔ بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، انھوں نے حضرت خالد کی بہادری اور جواں مردی پر تقریریں کیں اور ان کی معزولی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کو ابھارا کہ وہ خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں اور وعدہ کیا کہ ہم سب لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ (يحضونه على عصيان امر الخليفة ويعدونه بانهم سيكونون معه) مگر خالد بن ولید نے اس قسم کے مشورہ کو ماننے سے قطعی انکار کر دیا اور اس پر راضی ہو گئے کہ ابو عبیدہ بن الجراح کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی بن کر اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑتے رہیں۔ اس وقت انھوں نے جو جملہ کہا وہ تاریخ نے ان الفاظ میں محفوظ رکھا ہے :

ان الاقاتل فی سبیل عمر وَلَكِنْ فی سبیل میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ عمر کے رب رب عمر کی راہ میں جنگ کرتا ہوں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page