اس تقسیمِ کار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۶
اس تقسیمِ کار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے
اسلام میں عورت اور مرد کے دائرہ عمل کو الگ رکھا گیا ہے۔ عورت گھر کے لئے اور مرد باہر کے لئے۔ یہ تقسیم نہ صرف اس لئے صحیح ہے کہ حیاتیاتی اور عضو یاتی اعتبار سے دونوں صنفوں میں فرق ہے۔ بلکہ اس میں بہت سے اجتماعی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے ذریعہ دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے بہترین مشیر بن سکیں۔
خاندان ، نسلِ انسانی کی اکائی ہے اور معاشرہ اس کا مجموعہ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ زندگی کے ان دونوں میدانوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں وہ شخص بے لاگ رائے قائم نہیں کرپاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلہ سے متعلق نہ ہوتا کہ اس کی بابت غیر متاثر ذہن کے ساتھ رائے قائم کرسکے۔ عورت اور مرد کے درمیان تقسیم عمل سے یہ فائدہ بہترین طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہِ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثرہ ذہن کے ساتھ سوچے اور اپنے بے لاگ مشوروں سے اس کی مدد کر سکے۔
اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں عورت کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
۱۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی اتری تو آپ کانپتے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو۔ گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی اہلیہ خدیجہ بنتِ خویلد سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غارِ حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہؓ کے اس وقت کے الفاظ جو تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں وہ ایک رفیقۂ حیات کے کردار کی نہایت اعلیٰ مثال ہیں۔ انھوں نے کہا :
کلا والله ما یخزيك الله ابداً ، انك لتصل ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا الرحم وتتحمل الكل وتكسب المعد وم وتقوی آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں الضيف وتعين علی نوائب الحق کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ گم نام لوگوں کو کماتے ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریشِ مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues