دربار کے بہت سے امراء اس کے اس قوت و اثر
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۷
میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاہدہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں ۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جوتم اپنی ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈالو۔ تو ایک شخص بھی اس کے لئے نہ اٹھا۔ آپ نے تین باراپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انھوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لئے نہ اٹھا۔ ام سلمہ نے کہا : اے اللہ کے رسول، اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنے قربانی کا جانور ذبح کریں اور سر منڈالیں ۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کہ سرمنڈایا۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں۔ اگر چہ ان کے رنج و غم کا عالم یہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے۔ خدیجہؓ اور ام سلمہ کو ان نازک مواقع پر قیمتی بات سو جھی وہ اس لئے سو جھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں اور اس بنا پر اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں ۔ اگر وہ خود بھی معاملہ میں براہ راست شریک ہوتیں تو اس قسم کی بے لاگ رائے قائم کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوتا۔ غلطی کا انجام سوم تھا۔ یہ بادشاہ نہایت آرام طلب اور ناکارہ تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت کا سارا انتظام عملاً محمود گواں کے ہاتھ میں آگیا۔
دربار کے بہت سے امراء اس کے اس قوت و اثر
ہے ۔ وہ اس قدر محنت کا عادی تھا کہ اپنا ایک لمحہ بھی کو دیکھ کر اس سے جلنے لگے۔ انھوں نے خفیہ طریقہ سے محمود ۔ گواں کی سرکاری مہر حاصل کر لی ۔ ایک جعلی خط اس کی مہر کے ساتھ تیار کیا جو و جے نگر کے راجہ رائے نر سنگھ کے نام لکھا گیا تھا۔ یہ فرضی خط انھوں نے بادشاہ کو دکھایا ہزار کتابیں تھیں ۔ اس نے بہمنی سلطنت کی راجدھانی اور کہا کہ وزیر غدار ہے۔
بادشاہ امیروں کے دھوکے میں آگیا۔ اس نے ۱۴۸۱ء میں اس لائق وزیر کو قتل کرا دیا۔ بعد کو بادشاہ کو پتہ چلا کہ اس نے غلطی کی ہے، اس کو بے حد صدمہ ہوا، یہاں تک کہ خود بھی ایک سال کے اندر مر گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues