مردان چنین کنند
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۳
ہیں۔ میں رقم بھی ان ہندوستانی مسلمان تاجروں نے دی ہے جو کوبے میں اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی چندہ کی تحریک کی گئی ہے مگر ہنوز کچھ وصول نہیں ہوا۔ چندہ وصول کرنے اور مسجد تعمیر کرانے کے لئے ایک انجمن قائم ہے۔ مسٹر احمد اس انجمن کے سکریٹری ہیں۔ چنانچہ احمد عثا توکیو اسی غرض سے آئے تھے اور اراکین سلطنت سے ملنے کے لئے ایک روسی مسلمان کا خط قربان علی آفندی کے نام لائے تھے، جو توکیو میں روسی مسلمانوں کے امام ہیں اور نہا یت حکام رس اور ذی اثر آدمی ہیں۔
۱۰ ستمبر کو مسٹر عبدالغنی، مسٹر احمد اور میں قربان علی آفندی سے ملنے کے لئے گئے متوسط العمر، فربہ اندام اور رحیم آدمی ہیں اور بڑے تپاک و خلوص سے ملے۔ بولتے ہیں ، مگر انگریزی زبان نہیں جانتے ۔ ان سے معلوم ہوا کہ ٹوکیو میں روسی مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔ یہ لوگ نسلاً تاتاری ہیں ، مگر روسی سلطنت کے باشندے ہیں ۔ حکومت سوویت روس نے ان کو جلا وطن کر دیا ہے ۔ جاپان میں یہ لوگ مزدوری پیشہ ہیں ۔ جفا کشی اور دیانت سے روزی کماتے ہیں ۔ ان سب کا قیام ایک ہی محلے میں ہے ۔ قربان علی آفندی کی مساعی جمیلہ سے ایک مسجد ایک اسلامی مدرسہ اور ایک قبرستان بن گیا ہے ۔
اخراجات کے لئے آپس میں چندہ کر لیتے ہیں ۔ چندہ کی رقم اس قدر دیانت داری اور کفایت شعاری سے خرچ ہوتی ہے کہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ پس انداز ہوتا رہتا ہے۔ اندام اور درد، پیر اثر ہیں، یہ برسات کے گیا رہ برس سے جاپان میں مقیم ہیں، جاپانی زبان خوب اس رقم سے ایک پریس بھی قائم کیا ہے اور دوسری زبان یہ ایک سہ ماہی رسالہ بھی نکلتا ہے۔ قربان علی صاحب سے شنگیائی سلطانى جاپان کیوشو شیکوکا پیلو زرڈ تایوان بحوال كامل
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues