Al-Risala · December 1976 · page 34

مردان چنین کنند

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۴

انسائیکلوپیڈیا میں اسلام پر مقالہ لکھنے کے لئے ایک جاپانی فاضل نے اسلام کا مطالعہ کیا، وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا دیر تک گفتگو رہی۔ اپنی انجمن کے حالات سناتے رہے۔ بعد ازاں اپنے ہمراہ لے جا کر مسجد و مدرسے کی سیر کرائی۔ یہیں ایک کمرے میں پریس ہے۔ یہاں قربان علی صاحب نے اپنے رسالہ ’’زاپوں مجنری‘‘ کے کئی نمبر اور اپنے پریس کے چھپے ہوئے تصویری پوسٹ کارڈوں کا ایک سیٹ علیحدہ علیحدہ ہم تینوں کو عنایت فرمایا، اگلے دن شام کو پھر ان کے مکان پر گئے۔ کھانے میں بڑا تکلف کیا تھا۔ انواع و اقسام کے ترکی اور جاپانی کھانے میز پر آئے۔ ترکی کھانے نہایت لذیذ تھے اور ہندوستانی اور ایرانی کھانوں سے بہت زیادہ ملتے جلتے تھے۔ دوران گفتگو میں آفندی نے ہمیں بتایا کہ تاتاری لوگ گوشت ، شہد اور چائے بہت استعمال کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جاپان کے پرائیویٹ سکریٹری بھی شریک طعام تھے اور ان کو خاص مصلحت سے اس وقت مدعو کیا گیا تھا۔ تعارف کھانے سے قبل ہو چکا تھا۔ مگر کھانے کے بعد مطلب کی گفتگو ہوئی۔ آفندی نے سکریٹری صاحب کے سامنے مسٹر احمد کے آنے کی غرض اور کہیے کی مجوزہ مسجد کی تعمیر کا ذکر کیا۔ اور یہ درخواست کی کہ ہم لوگ وزیر اعظم سے اس غرض کے لئے ملنا چاہتے ہیں کہ حکومت بھی اس نام میں کچھ امداد فرمائے، آپ ملاقات کا انتظام کر دیجئے ۔ اور خود بھی وزیر صاحب موصوف سے سفارش کر دیجئے۔ انھوں نے دونوں باتوں کا وعدہ کر لیا جمعہ کے روز نماز کے لئے مسجد گیا۔ پچاس نمازی جمع ہوئے۔ ہر شخص ہیٹ کے نیچے ایک گول مخمل کی ٹوپی پہن کر آیا تھا۔ نیچے کی منزل میں اور زینے پر بہت سی کھونٹیاں دیوار پر لگی ہوئی ہیں۔ ہیٹ ان پر ٹانگ دی اور گول ٹوپی پہن کر اوپر کے ہال میں جہاں نماز ہوتی ہے جمع ہوئے۔ بعض لوگوں نے نیچے کی منزل میں وضو بھی کیا۔ نماز کے بعد تمام نمازیوں سے مصافحہ ہوا۔ یہیں ایک جاپانی صاحب سے بھی تعارف ہوا۔ یہ بھی نماز میں شریک تھے۔ ایک روسی مسلمان مسٹر صابر جمیل نے مجھ کو اور جاپانی مسلمان صاحب کو جن کا کام مسٹر سبورو تھلا سی وقت چائے نوشی کی دعوت دی۔ صابر صاحب مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان میں رہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ عائشہ نے مہمانوں کی بڑی خاطر مدارات کی۔ مسٹر سبورو سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی۔ میں نے دریافت کیا کہ اسلام کی کس خوبی نے آپ کو اس طرف مائل کیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ ان سے جاپانی انسائیکلوپیڈیا میں اسلام کے متعلق آرٹیکل لکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ اور تحقیق کے بعد خود بخود اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہوگئی۔ اور بغیر کسی خارجی تحریک کے مشرف بہ اسلام ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ اسلام کی بے شمار خوبیاں ہیں۔ مگر دو خوبیوں نے خصوصاً ان پر بڑا اثر کیا، اول تو توحید اور ثانیاً مذہبی رواداری۔ مسٹر سبورو توکیو میں تنہا جاپانی مسلمان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام جاپان میں معدودے چند جاپانی مسلمان ہیں“۔ سیاحت جاپان ۱- ۱۱۱

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page