خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰
اسکاٹ لینڈ کی جھیل میں نظریہ ارتقاء کے حیاتیاتی آثار کی تلاش کائنات "ارتقائی" تشریح کو قبول نہیں کرتی۔ اگرچہ سمندر کی تہوں سے لے کر خلائی کروں تک اس کے لئے بے شمار تحقیقات جاری ہیں۔ جہاں ہماری جیسی زندگی پائی جاتی ہو۔
اس نظریہ کے مفروضات میں سے ایک مفروضہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بہت بڑے بڑے بے ہنگم جانور زمین پر پائے جاتے تھے جو بعد کو ختم ہوگئے، مگر ابھی تک اس مفروضہ کے ثبوت میں صرف متحجر ہڈیوں کے ٹکڑے ہی سائنسدانوں کو دستیاب ہو سکے ہیں۔ تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس اس رقم سے اس کے تمام اخراجات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس ٹیم میں حصہ لینے کے لئے ماہرین نے رضا کارانہ طور پر اپنے اوقات دیئے تھے۔ اس کے علاوہ مہم کا اکثر سازو سامان عطیہ کے طور پر ملا تھا۔ ۸ نومبر ۷۹ ء کو بوسٹن سے جو آخری رپورٹ دی قدیم نسل کا کم از کم ایک فرد لاش نیس نامی جھیل میں موجود ہے۔ اس سلسلے میں ۱۹۷۲ اور ۱۹۷۵ء ۱۹ میں تحقیقاتی مہمیں جاتی رہی ہیں۔ ۱۹۷۶ میں امریکی انجینئروں اور سائنس دانوں کی ایک ٹیم زیادہ بڑے پیمانے پر سازوسامان سے لیس ہو کر اس جھیل پر پہنچی۔ اس ٹیم کو نیو یارک ٹائمزاور اکیڈیمی آف اپلائیڈ سائنس (بوسٹن) سے مالیاتی تعاون ملا تھا۔ اس پر تقریباً ۷۵، ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ مگر صرف گئی ہے، اس کے مطابق یہ ٹیم مفروضہ حیوان یا اس کے آثار دریافت کرنے میں ناکام رہی۔
اس مہم پر جو مشینی کشتیاں استعمال کی گئیں وہ جدید ترین سامانوں سے لیس تھیں۔ زیر آب کیمرا، پانی میں کام کرنے والا ٹیلی وژن، ٹیپ ریکارڈر، پانی کی تہوں میں دیکھنے والی دوربین وغیرہ۔ نیز ان کشتیوں کی مدد کے لئے فضا میں ہیلی کاپٹر بھی مسلسل موجود رہتے تھے ٭
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues