Al-Risala · January 1977 · page 11

خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱

دنیا کو کسی بتانے والے کا انتظار ہے جولائی ۷۹ء کی چھ تاریخ تھی اور شام ۶ بجے کا وقت۔ میں شہر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اتنے میں ایک اجنبی دکان دار نے آواز دے کر مجھے روکا۔ "مرنے کے بعد کیا آدمی پھر اسی جیون میں واپس آتا ہے،" اس نے پنجابی زبان میں سوال کیا ۔ "نہیں"

"پھر کہاں جاتا ہے،"

"اپنے مالک کے پاس چلا جاتا ہے حساب دینے کے لئے۔ "

"اور اس کے بعد،"

"اس کے بعد نرک میں جاتا ہے یا سورگ میں۔ " یہ جواب سن کر بوڑھے دکان دار نے اپنی سیٹ پر پہلو بدلا اور خاموش ہو گیا۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اب کچھ اور بولنا اس کی سوچ میں خلل ڈالنا ہوگا۔ میں چند منٹ تک اس کے اگلے سوال کا منتظر رہا اور اس کے بعد آگے بڑھ گیا ۔

اسی قسم کا ایک واقعہ مشہور امریکی مشنری بلی گراہم نے لکھا ہے۔ وہ اپنی کتاب" دی سیکرٹ آف ہیپی نس" میں لکھتا ہے کہ دنیا کے ایک عظیم سیاست داں نے ایک بار اس سے کہا:

I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. "میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔ عنقریب میں نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں، اے نوجوان شخص! کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن دے سکتے ہو؟ ۔ یہ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔ بچپن اور جوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔ مگر بالآخر تقدیری فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مر جائے گا۔ اس وقت وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ "مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے" اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی دے سکے۔

یہ زندگی کا اہم ترین سوال ہے، اس سے باخبر کرنے کے لئے اللہ نے اپنے تمام پیغمبر بھیجے۔ مگر آج جو لوگ پیغمبر کے وارث ہیں، وہ خود بھی شاید اس حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ پھر ان سے کیا امید کی جائے کہ وہ دوسروں کو اس حقیقت سے باخبر کر سکیں گے۔ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنا ہے اسی کو بتانے کے لئے قرآن بھیجا گیا ہے۔ حاملین قرآن کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ دنیا کو اس حقیقت سے باخبر کریں۔ اگر وہ اس کام کو نہ کریں تو قیامت کے دن جب قوموں کا حساب ہو گا وہ اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ ان کے پاس انسانیت کے لئے اہم ترین خبر تھی مگر انہوں نے لوگوں کو اس سے آگاہ نہ کیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page