Al-Risala · February 1977 · page 36

ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

اسلام کے مطلوبہ رخ کی طرف موڑ دیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے مصلحین معاملے کی اصل نوعیت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس پورے معاملے کو استعمار کا پیدا کردہ ایک سیاسی مسئلہ سمجھا اور دوسو برس کی انتہائی قیمتی مدت صرف سیاسی معرکہ آرائیوں میں ضائع کر دی گئی۔ دور جدید کو سمجھ کر اس کے حسب حال احیائے اسلام کی جدوجہد کی منصوبہ بندی ہم نہ کر سکے۔

یہ چیلنج جو موجودہ زمانہ میں اسلام کو پیش آیا، کسی قدر بدلی ہوئی شکل میں اسلام کے ابتدائی دور میں بھی اس کے ساتھ پیش آچکا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کا مقابلہ جس دنیا سے ہوا، وہ شرک کی دنیا تھی۔ مختلف ملکوں اور قوموں میں خدا کے رسول آنے رہے۔ انھوں نے متفقہ طور پر لوگوں کو توحید کی طرف بلایا۔ مگر عالمی رائے عامہ نے دعوت توحید کو رد کر دیا اور زندگی کے تمام شعبے شرک کی بنیادوں پر قائم ہو گئے ۔ اس زمانہ میں شرک اتنا طاقتور تھا کہ توحید کی آواز بلند کرنے والوں کو آرے سے چیر دیا جاتا تھا۔ جس نظام میں اقتصادیات دیوتاؤں کے نام پر لگنے والے بازاروں سے وابستہ ہوگئی ہو، اور جہاں ایک بادشاہ حکومت کرنے کا حق یہ کہہ کر حاصل کرتا ہو کہ وہ فلاں دیوتا کی اولاد ہے، وہاں توحید کے پیغام کو کس طرح برداشت کیا جا سکتا تھا۔ اس وقت اللہ نے اپنے آخری رسول کو بھیجا اور اس کو لیظهرہ علی الدین کلہ کی نسبت عطا فرمائی۔ اللہ کی اس نصرت کے بل پر اسلام کے نمائندے توحید کا پیغام لے کر اٹھے اور اس طاقت کے ساتھ اس کوشش کیا کہ انسانیت کا قافلہ ایک نئی راہ پر چل پڑا۔ لندن کی ایک تازہ انسائیکلو پیڈیا (م ۷ ، ۱۹) میں "اسلام" کے مقالہ نگار نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے: اسلام نے تاریخ کے رخ کو بدل دیا:

ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY

اسلام نے انسانی تاریخ پر کیا انقلابی اثرات ڈالے۔ یہ ایک علیحدہ اور مستقل موضوع ہے۔ تاہم مثال کے طور پر میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا۔ آرنلڈ ٹائن بی نے لکھا ہے کہ فطرت کی طاقتیں اول روز سے زمین پر موجود تھیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی تسخیر صرف حالیہ سائنسی انقلاب کے بعد ہوسکی۔ پھر وہ خود ہی جواب دیتا ہے کہ اس تسخیر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شرک (مظاہر پرستی) کا عقیدہ تھا جو پچھلے تمام زمانوں میں مسلسل انسان کے اوپر ایک غالب فکر کی حیثیت سے چھایا رہا ہے۔ شرک کے عقیدہ نے فطرت کی طاقتوں کو دیوتا بنا دیا ۔ مشرك انسان کے نزدیک یہ طاقتیں پرستش کا موضوع تھیں نہ کہ تسخیر کا موضوع۔ یہ تمام تر عقیدہ توحید کا کرشمہ ہے کہ انسان تے ان طاقتوں کو اپنی ہی قسم کی مخلوق کی نظر سے دیکھا اور ان کو مسخر کیا۔

بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان جدید الحاد کے مقابلہ میں وہی رول ادا نہ کرسکے جو ان کے اسلاف نے قدیم شرک کے مقابلہ میں ادا کیا تھا۔ ورنہ آج نہ صرف یہ کہ ہم دفاع کی پوزیشن میں نہ ہوتے بلکہ خود انسانیت کی تاریخ بھی دوسری ہوتی۔ جس طرح ہزار برس پہلے ہمارے اسلاف نے اللہ کی تائید سے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔ "تاہم اللہ ہر امر پر غالب ہے ۔ وہ عالم انسانی کے واقعات پر مستقل نظر رکھتا ہے، اور اپنے فیصلہ کے تحت

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page