لِمَثل هذا فليعمل العاملون
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵
موجودہ زمانہ کے تمام مسائل در حقیقت اسی تبدیلی فکر کا شاخسانہ ہیں۔
قدیم زمانہ میں فلسفہ کو علوم کی ملکہ (کوین آف آرٹ) سمجھا جاتا تھا۔ جدید سائنس کے ظہور کے بعد فلسفہ نے اپنا یہ مقام کھو دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سائنس کے بیانات میں فنی اتقان (Technical Perfection) ہوتا ہے، جب کہ فلسفہ کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔ سائنس کی اس خصوصیت نے جدید دنیا میں اس کو تمام علوم پر غالب کر دیا اور اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر وہ طرزِ فکر پیدا ہوا جس کو عام طور پر ایجابیت (پازیٹوزم) کہا جاتا ہے۔ یعنی محسوس و مشہود واقعات کی بنیاد پر رائے قائم کرنا۔ قدیم ما بعد الطبیعیاتی طرز فکر کے لئے اس میں کوئی استبعاد نہ تھا کہ وہ روح کو آسمان سے نازل شدہ ایک غیر مرئی چیز سمجھے، اور اس مفروضہ کی بنیاد پر انسانی حرکات کی توجیہہ کیے مگر جدید ذہن نے چاہا کہ دوسرے امور کی طرح ، وہ اس کو بھی کیمیاوی اصطلاحوں میں بیان کرے ۔ اس نے کہا کہ روح، طبیعی اور کیمیائی مادوں کے عمل اور رد عمل سے پیدا ہونے والی ایک وقتی کیفیت ہے ، ٹھیک ویسے ہی جیسے ہوا میں دو شاخوں کی رگڑ سے آواز پیدا ہوتی ہے۔
غیر طبیعی واقعات کی توجیہہ طبیعی اصطلاحات میں کرنے کا یہ ذہن مذہب تک بھی پہنچا۔ مذہب کے آسمانی رشتہ کا مشاہدہ سائنسی ذرائع سے نہیں کیا جا سکتا تھا۔ البتہ مذہب کے وہ خارجی مظاہر انسان کے مشاہدہ میں آئے تھے جو ہر دور میں انسانی سماج کے اندر مذہب کے نام سے پائے جاتے رہے ہیں۔ اس لئے انہیں خارجی مظاہر کو مذہب کے سمجھنے کا مدار قرار دے دیا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب الہیات (تھیالوجی) کے بجائے انسانیات (اینتھر پالوجی) کے مطالعہ کا موضوع بن گیا۔ اب انسانی سماج ، مذہب کو جاننے کا ماخذ تھا، جب کہ اس سے پہلے مذہب آسمان سے ماخوذ سمجھا جاتا تھا۔ یہ تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہ تھی ۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے ریاض کی یہ وئو تمر (ذوق قعده ١٣٩٦) جو شریعت اسلامی کے موضوع پر ہو رہی ہے۔ مورخین کی جماعت اس کو " "فرنیچر" " کی تاریخ کے خانہ میں ڈال دے اور آئندہ اس کا مطالعہ فرنیچر کے عنوان کے تحت کیا جانے لگے۔
آج جب ایک شخص کہتا ہے کہ " مذہب و شریعت زمانی چیزیں ہیں " تو اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہوتا ہے کہ مذہب و شریعت سماجی عوامل کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔ اور یہ معلوم بات ہے کہ سماجی عوامل کے تحت پیدا ہونے والی چیزیں زمانی ہوتی ہیں۔ لباس اور فرنیچر ہر زمانہ میں یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس لئے مذہب و شریعت بھی قدرتی طور پر ایک زمانی ظاہرہ ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان مذہب کا مطالعہ اس نظر سے کرتا کہ اس کا مصدر وہی لازوال حقیقت اعلیٰ ہے جو نباتات کی روئیدگی ، حیوانات کی پیدائش اور ستاروں کی گردش کو کنٹرول کر رہی ہے تو اس کو نظر آتا کہ مذہب ایک ابدی حقیقت ہے جس طرح طبیعیات اور حیاتیات کے قوانین ابدی ہیں۔ مگر مذہب کو " سماجی علوم " کے مطالعہ کا موضوع بنانے کی وجہ سے سارا معاملہ الٹ گیا۔
تاریخ انسانی کا یہ فکری موڑ جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میں وقوع میں آیا، اسلام کے لئے انتہائی فیصلہ کن تھا۔ ضرورت تھی کہ مسلم قومیں اس سیلاب کے مقابلہ میں جوابی سیلاب بن کر اٹھیں اور تاریخ کے دھارے کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues