ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتا رہتا ہے۔ وہ کام جس کو کرنے میں مسلمان ناکام ثابت ہوئے تھے، اس کو اللہ نے، حیرت انگیز طور پر، خود مغربی اقوام کے ہاتھوں انجام دلا دیا ہے۔ مغربی سائنس کی بعد کی تحقیقات نے وہ تمام نظریاتی بنیادیں منہدم کر دیں جو مذہب و شریعت کو بے اصل یا زمانی ثابت کرنے کے لئے علم جدید نے وضع کی تھیں ۔
انسان کو غلط راہوں میں بھٹکنے سے بچانے کے لئے قرآن نے دو انتہائی بنیادی باتوں کی نشان دہی کی تھی ۔ ایک یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت کا غیبی طور پر اقرار کرے، اگر اس نے اصرار کیا کہ اس کو حقیقت کا براہِ راست مشاہدہ کرایا جائے تو وہ سچائی کو نہیں پاسکتا (ہُدًى لِلْمُتَّقِينَ اَلَّذِيْنَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ) دوسرے یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اس امر واقعہ کا اعتراف کرے کہ وہ اپنی زندگی کا قانون خود اپنے علم کے ذریعہ دریافت نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اپنا قانون خود وضع کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ صورت واقعہ کے سراسر خلاف ہوگا۔ (وَلَا تَقُولُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلَالٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ) موجودہ دور میں ان دونوں باتوں کو مذہبی خوش اعتقادی پر محمول کیا گیا۔ کہا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی علمی بنیاد نہیں ہے۔ مگر سائنس کی بعد کی دریافتوں نے حیرت انگیز طور پر ثابت کیا ہے کہ انسان کے لئے واحد قابلِ عمل موقف وہی ہے جو قرآن میں بتایا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا موقف علمی طور پر اس کے لئے ہو ہی نہیں سکتا۔ یہود نے تین ہزار برس پہلے اپنے نبی سے کہا تھا کہ ارنا اللہ جہرۃ - ٹھیک یہی بات موجودہ زمانہ میں علم کے نام پر دہرائی گئی۔ سائنسی ذرائع کے استعمال سے جب ایسے بے شمار مخفی حقائق انسان کے علم میں آئے جن کو وہ اس سے پہلے نہیں جان سکتا تھا، تو کہا گیا کہ سائنس نے انسانی حواس کی محدودیتوں کی تلافی کر دی ہے اور اب ہر موجود چیز کو انسان کے براہِ راست مشاہدہ میں آجانا چاہئے۔ سائنسی ذرائع کے استعمال کے بعد بھی اگر کوئی چیز تمھارے مشاہدہ میں نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جب معلوم ہوا کہ سائنسی آلات خورد بینی کیڑوں سے لے کر بعید ترین اجرام تک کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، مگر مذہبی حقائق ان کے مشاہدہ میں نہیں آئے، تو سمجھ لیا گیا کہ ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔
مگر بیسویں صدی کا آغاز اس ذہن کے خاتمہ کے ہم معنی بن گیا۔ روشنی کی تعبیر ذرات (Corpuscles) سے کرنے کے سلسلے میں ناکامی نے بتایا کہ کائنات میں ایسی حقیقتیں ہیں جن کو طبیعی اصطلاحوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹم کے ٹوٹنے سے معلوم ہوا کہ اشیاء ابتدائی سائنسی اندازوں سے بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ہم جتنی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ تعداد ان چیزوں کی ہے جو ہمارے آلات کی گرفت میں نہیں آتے۔ حتیٰ کہ بلیک ہول تھیری کے مطابق خود کثیف اجسام کا بھی صرف ۳ فی صد حصہ ہمارے لئے قابلِ مشاہدہ ہے، بقیہ ۹۷ فی صد حصہ وہ ہے جس کو ہم کبھی نہیں دیکھ سکتے۔
جب کائنات اس سے زیادہ اشیاء کا مجموعہ ہے جو ہمارے براہِ راست مشاہدہ میں آتی ہیں تو بقیہ نا قابل
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues