Al-Risala · February 1977 · page 38

ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸

مشاہدہ چیزوں کو جاننے کا ذریعہ کیا یہاں سائنس دانوں کو ذرائع علم میں مشاہدہ (OBSERVATION) کے ساتھ استنباط (INFERENCE) کا اضافہ کرنا پڑا۔ پہلے دور کی علامت اگر نیوٹن تھا تو دوسرے دور کی علامت آئن سٹائن ہے، اس سلسلہ میں آئن سٹائن کے نظریات کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے:

IN DEALING WITH THE ETEFNAL VERITIES, THE AREA OF EX- PERTMENT IS REDUCED AND THAT OF CONTEMPLATION ENHANCED اس طرح سائنس نے گویا اس واقعہ کا اعتراف کر لیا کہ انسان کے لئے ایمان بالغیب (دواہر کو دیکھ کر حقائق کو کو ماننا) کا طریقہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

نظریہ علم (THEORY OF KNOWLEDGE) میں یہ تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے۔ اس نے سچائی کا وہ دروازہ کھول دیا ہے جو دو سو برس سے بند پڑا ہوا تھا۔ سائنس نے جو کائنات دریافت کی تھی، وہ حیرت انگیز طور پر ایک انتہائی با معنی کائنات تھی۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنی ایک تو جیہہ (EXPLANATION) مانگ رہی تھی۔ مگر توجیہہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک استنباطی چیز ہے نہ کہ مشاہداتی۔ اس لئے سائنس انیسویں صدی کے آخر تک اس سے گریز کرتی رہی۔ اب استنباط کو سائنسی علم کے زمرہ میں داخل کرنے کے بعد سائنس نے استنباطی توجیہہ کی صداقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نیوٹن کے الفاظ کو دوبارہ دہرایا جا سکے کہ نظام عالم کے پیچھے ایک خدائی بازو (DIVINE ARM) کام کر رہا ہے۔ حرکت، زندگی، حسن، معنویت، حکمت، عظمت اور پر اسرار خواص کا وہ مجموعہ جس کو کائنات کہا جاتا ہے، اس کی کوئی توجیہہ اس کے سوا نہیں۔ بنتی کہ اس کو ایک زندہ اور با شعور خدا کی کارفرمائی تسلیم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ استنباطی استدلال کو ایک جائز طریق استدلال ملنے کے بعد پوری کی پوری سائنس قرآن کا علم کلام بن گئی ہے۔ وہ قرآنی عقائد کو علمی سطح پر ثابت کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کی دریافتوں کو ابھی تک قرآنی کلامیات کے طور پر مرتب نہیں کیا گیا۔

یہاں مثال کے طور پر میں صرف ایک حوالہ دوں گا۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنا ایک جوڑ رکھتی ہے۔ مقناطیس کے ایک ٹکڑے کو کاٹیں تو وہ فوراً اپنا ایک ساؤتھ پول اور نارتھ پول پیدا کرے گا۔ اسی طرح ہر چیز جوڑے جوڑے کی شکل میں اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔ پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل۔ ایٹم کا اینٹی ایٹم، حتی کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ ہے۔ اینٹی ورلڈ کو ملے بغیر ہم موجودہ ورلڈ کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ یقین کیا جاتا ہے ہے کہ موجودہ دنیا کے اندر ایک اور متوازی دنیا موجود ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ دوسری دنیا (اینٹی ورلڈ) ہماری موجودہ دنیا کے مقابلہ میں کچھ زیادہ خواص رکھتی ہے۔ مثلاً ہماری دنیا فانی ہے جب کہ دوسری دنیا (اینٹی ورلڈ) کے اندر بقا کی صلاحیت ہے۔ وغیرہ یہ حیرت انگیز طور پر قرآن کی تصدیق ہے۔ قرآن میں کہا گیا تھا : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۔ یعنی دنیا کی تمام چیزوں کو ہم نے اس طرح بنایا کہ جوڑے کے بغیر کسی چیز کا وجود ممکن نہیں۔ تاکہ تم غور الہ رسالہ فروری ، ۱۹۷۷ء

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page