Al-Risala · February 1977 · page 39

ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۹

کر کے اس حقیقت تک پہنچو کہ پورے عالم کا بھی ایک جوڑا ہونا ضروری ہے، اور وہ آخرت ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کی تمام سائنسی دریافتوں کا حال ہے۔ یہ دریافتیں حقیقت عالم کون کے اندر چھپے ہوۓ ’’آلار اللہ‘‘ کا ظہور ہیں۔ یہ اس پیشین گوئی کی تکمیل ہے جو قرآن میں تیرہ سو برس پہلے کی گئی تھی : سَنُرِيهِمُ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ جدید دریافتوں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے آخری طور پر متحقق کر دیا ہے کہ انسان اپنی زندگی کا قانون خود دریافت نہیں کرسکتا۔

یہ بات اب غیر مشتبہ طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کے ذرائع اس کو صرف جزوی علم تک پہنچاتے ہیں۔ اس واقعہ کا سب سے زیادہ معنی خیز پہلو یہ ہے کہ جو باتیں ہمارے علم میں نہیں آئیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس سے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں جو ہمارے علم میں آ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ریڈیم کے الیکٹران ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب کہ ریڈیم کا ٹکڑا ایک غیر تابکار عنصر (سیسہ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ الیکٹران کیوں ٹوٹتے ہیں۔ وہ کون سی طاقت ہے جو بے شمار الیکٹران میں سے ایک الیکٹران کے لئے ایک وقت خاص میں قضا کا حکم بن کر آتی ہے۔ اس اہم ترین سوال کے بارے میں سائنس دانوں کی تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک سائنس داں کو کہنا پڑا کہ "یہ شاید خداؤں کے اختیار میں ہے، خواہ وہ جو بھی ہوں"۔

یہی تمام اشیاء کا حال ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں:

THE IMPORTANT IS UNKNOWABLE, AND THE KNOWABLE IS UNIMPORTANT (جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں)

یہ بات جو سائنسی دنیا کے بارے میں دریافت ہوئی ہے، یہ اس مسئلہ کے بارے میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے جس کو ہم "انسانی قانون کا مسئلہ" کہتے ہیں۔ کیونکہ انسان، ریڈیم کے ایک ٹکڑے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ پیچیدہ وجود ہے۔ پھر جب ہم دھات کے ایک ٹکڑے کے قانون کو صحیح طور پر دریافت نہیں کرسکتے تو انسانی زندگی کا قانون کس طرح معلوم کرسکتے ہیں۔

سائنس نے بتایا ہے کہ انسان کی ہستی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جیسا کہ قدیم زمانہ میں سمجھا جاتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کا تعلق ساری کائنات سے ہے۔ وہ بیک وقت علم الخلايا سے لے کر فلکیات تک اور نفسیات سے لے کر اقتصادیات تک بے شمار علوم کا موضوع ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان کو صحیح طور پر جاننے کے لئے ساری کائنات کا علم ضروری ہے۔ مگر ٹھیک اسی وقت ہماری تحقیق نے بتایا کہ انسان کچھ ایسی لازمی محدودیتوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ حقیقت کو اس کی وسیع اور کلی شکل میں دیکھ سکے۔ انیسویں صدی میں قانون انسانی کے مطالعہ کو "سوشل انجینرنگ" سے تعبیر کیا گیا تھا۔ گویا جس طرح ایک انجینئر

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page