Al-Risala · February 1977 · page 50

میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰

داڑھيں اس ميں سب سے ہڈی، ہيں لیکن ان کے اگلے دانت نسبتاً چھوٹے اورکند ہيں۔ چنانچہ اُن کی مدد سے زنجنتھوپس خرگوش يا اتنے ہی بڑے دوسرے جانوروں کی کھالیں اور سمور ہرگز ہرگز چیڑ پھاڑ نہ سکتا تھا لیکن اس کے مسکن سے جو ہڈیاں ملی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جانور اس کی خوراک تھے ضرور، ان سب باتوں کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ زنجنتھوپس نے اپنی خوراک میں جب گوشت شامل کیا تو یقیناً اس نے او زار بنانا شروع کر دیئے تھے۔ میں اولڈ دوائی پہلی بار ۱۹۳۱ء میں آیا تھا اور بیل گاڑی کو یہاں پہنچنے میں سات دن لگے تھے۔ راستے میں جنگلی جانوروں مثلاً ہاتھیوں، ،زیبروں، گینڈوں، زرافوں، ہرنوں اور چھوٹے خوشنما کوئی چودہ انچ اونچے بارہ سنگھوں کی کمی نہ تھی۔ اکثر جانور ہم سے شاذ ہی خوف کھاتے تھے۔ اس وقت جب ہم نے گھاٹی کے کنارے پڑاؤ ڈالا تو پہلی رات ہمارے نئے ہمسائے ہمیں دیکھنے آئے۔ رات کو کیمپ کے پاس میں نے کچھ ہلچل محسوس کی۔ یہ چلنے پھرنے والے کون ہو سکتے ہیں؟ میں تحقیق کرنے باہر نکلا۔ اندھیرے میں مجھے سبز آنکھیں نظر آئیں۔ یہ گیارہ شیر تھے کچھ پاس اور کچھ ذرا پرے ۔ اصل میں وہ اس حملے کی تفتیش کرنے آئے تھے جو ہم نے اُن کے علاقہ پر کیا تھا اور بلی کے پورے خاندان میں شیر کو سب سے زیادہ متجسس طبیعت ملی ہے۔ ہمارے ان میزبانوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا ان کی خوش اخلاقی کے جواب میں ہمارا رویہ بھی ان کے ساتھ ہمیشہ شائستہ رہا۔

ایک روز میں نیروبی اپنے مکان پر تھا کہ اولڈ دوانی سے میری نے مجھے ریڈیو فون پر بتایا۔

"ہمیں ایک پاؤں ملا ہے۔ ہاں پاؤں کہہ رہی ہوں۔ شاید یہ بھی زنجن تھروپس کی طرح ایک اور ہیجان انگیز دریافت ہے۔"

"حیران کن خبر ہے، کیا کچھ پا چکی ہو؟ "

"کافی حصہ، ایڑی اور ٹخنے کی ہڈیاں اور کچھ دوسری بھی، کب آ رہے ہو انہیں دیکھنے؟ "

"بس آیا۔"

اور اس طرح مجھے دنیا بھر میں اب تک معدوم شدہ سب سے قدیم (HOMINID) کی متحجر ہڈیوں کا علم ہوا۔ یہ نوع اس باقاعدہ خاندان کا رکن تھی جس میں انسان اور انسان نما مخلوق شامل ہے۔ ہماری پارٹی کو اولین چیتے کے دانت تلاش کرتے کرتے بالکل صحیح حالت میں ایک دانت ملا، مگر یہ کسی چیتے کا نہ تھا۔ "بعونہ اولیٰ"، میری چلائی۔

سطح سے نیچے خندق میں ہنسلی کی ایک بڑی کھوپڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، انگلیوں کی ہڈیاں، پاؤں کی اہم ہڈیاں اور نچلے جبڑے کا بڑا حصہ ہاتھ لگا۔ اس جبڑے کے دانت بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ محفوظ تھے۔ یہ جگہ وہاں سے کوئی ڈھائی سو گز پرے تھی جہاں زنجنتھروپس ملا تھا مگر زنجنتھروپس کی جگہ اوپر تھی۔ اس کی نچلی پہلی داڑھیں گھسی ہوئی تھیں، تیسری داڑھوں کی علامات تک سرے سے غائب تھیں گویاز نجنتھر وپس سے پہلے کا یہ رکاز کسی گیارہ بارہ سالہ بچے کا ہے۔ سر کی ہڈیوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس بچے کی موت تشدد کا نتیجہ تھی ۔ ضرب شدید لگنے کی وجہ سے ہڈی تڑخنے کے نشانات

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page