Al-Risala · February 1977 · page 51

میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۱

موجود ہیں۔ وہاں چٹانیں بھی نہ تھیں کہ اُن پر سے گر کر اتنا بڑا گھاؤ کھا کر مرا ہو۔ بہر حال وار کسی کند ہتھیار سے کیا گیا تھا۔

تا حال ہمارے پاس اتنی معلومات نہیں ہیں کہ زنجنتھر وپس سے بھی زیادہ قدیم اس بچے کو ہم صحیح معنوں میں انسان کہہ سکیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ زنجنتھر وپس سے مختلف قسم کی نوع تھی۔ لیکن جہاں یہ بچہ رہتا تھا وہاں سے ہمیں سادہ گھر باقاعدہ گھڑے ہوئے اوزار ملے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پھولوں ، گریۂ ماہی اور نسبتاً آسانی پکڑے جانے والے آبی پرندوں کی باقیات بھی دستیاب ہوئیں۔ گویا زنجنتھر وپس سے پہلے کی یہ مخلوق اچھی یا ماہر شکاری نہ تھی۔ البتہ وہ سست رفتار جانوروں اور پایا ب پانیوں میں رہنے والے پرندوں کو دوسرے جانوروں کے مقابلے میں زیادہ آسانی کے ساتھ پکڑ بھی سکتے تھے اور مار بھی سکتے تھے۔

زنجنتھر وپس اور اس کے پیشرو بچہ کی قدامت کے تعین پر ماہرین ابھی کام کر رہے ہیں۔ ویسے ہم دونوں میاں بیوی صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ زنجنتھر وپس چھ لاکھ سال قبل رہتا تھا۔ گو ہمیں اس بات کا بھی پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ثابت ہوگا اور پھر مجھے زبجن تھروپس کی قدامت کے سلسلے میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کے جیا لو جیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر گارنس نے یہ اطلاع دی کہ:

" اولڈو والی کے رکازوں کے زمانے کی پوٹاشیم ارگون پر تجربے ابھی جاری ہیں (تاہم ابتدائی نتائج بے حد چونکا دینے والے ہیں۔ زبجن تھروپس اور زبجن تھروپس الّر سالہ فروری ۱۹۶۷ء سے قبل کا طفل“ بہت ہی قدیم ہے میرے رفیق کار ڈاکٹر جیک ایورنڈن اور میں نے فی الحال ان نمونوں کی قدامت ساڑھے سترہ لاکھ برس مقرر کی ہے۔ ہم دونوں کو یقین ہے کہ یہ مدت اولڈوائی کی ابتدائی آدمی کی صحیح قدامت کے قریب ہے۔

جب ہمیں کوئی اہم چیز مل جاتی ہے تو میرے ساتھی مجھے یہ کہہ کر چڑھاتے ہیں ”اچھے نصیب ہیں! “ اور اس بات کو میں بلا تامل مان لیا کرتا ہوں کیونکہ قسمت اکثر یا دوری کر جاتی ہے مگر ان کامرا نبوں ہیں اس حقیقت کو بھی تو پورا دخل ہے کہ میں ۲۵ برس سے سخت محنت جستجو اور کھدائی میں لگا ہوا ہوں میری نے جزیرہ روسنگا (جھیل وکٹوریہ) میں اپنی ایک اور عظیم دریافت کا سراغ لگا لیا لیکن اس سے پہلے ہم وہاں سو سے زیادہ مقامات پر مقدر آزمائی کر چکے تھے۔ ایک ڈھلوان کا بڑی توجہ سے معائنہ جاری تھا کہ اچانک میری کو ایک دانت نظر آیا جو ایک خاکستری رکاز کا نقطہ یا دھبہ سالگ رہا تھا ۔ چٹان کریدی تو ایک دانت اور برآمد ہوا اور پھر کچھ اور بھی کئی دنوں بعد جاکر ہم اپنا یہ گورکھ بیجا کر سکے ۔ یعنی وہ ہڈیاں جوڑیں یہ پروکونسل فرینس (PROCONSUL AFRICANUS) کی قریب قریب مکمل کھوپڑی تھی اور یہ وہ مخلوق تھی جو ڈھائی کروڑ سال قبل وہاں رہتی تھی ۔ کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اُسی مخلوق کو انسان اور بوزنے کی مشترکہ طور پر جد امجد ہونے کا فخر حاصل ہے۔ پہلا موقع تھا کہ کسی محقق کو کسی اولین میمون نما مخلوق کی کھوپڑی کا تقریباً مکمل نمونہ ملا تھا اور انسانی ماضی کے مطالعہ کے لئے ایک نئی راہ سامنے آگئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page