میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۲
یہ دریافت اس قدر اہم تھی کہ ہم نے اُسے فی الفور بذریعہ ہوائی جہاز لندن لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے نیروبی سے میری کو جہاز میں سوار کرایا۔ نازک کھوپڑی روئی کی تہوں میں لپٹی ایک صندوقچے میں رکھی تھی اور یہ صندوقچہ میری کی گود میں تھا، نیوز ریلوں کے فوٹوگرافر اور اخباری نمائندے لندن میں میری کی راہ تک رہے تھے۔ ہوائی اڈہ کی پریس کانفرنس کے موقعہ پر دو جاسوس کھوپڑی کی سخت نگرانی کا فریضہ انجام دینے میں مصروف تھے اور کسی وقت بھی انھوں نے پرو کونسل افریکنس کے کاسہ سر کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ پرو کونسل اور رز جنتھروپس برہما برس کے شدائد اور سخت روی کا ثمر تھے۔
ہماری سب سے سنسنی خیز دریافت جبڑے کا وہ ایک حصہ ہے جو فورٹ ٹرنن کینیا کے ہرے بھرے نشیبی علاقہ سے ملا۔ یہ ایک کروڑ ہم لاکھ سال پرانا ہے۔ پرو کونسل اور رز جنتھروپس کے مابین ارتقائے انسانی کے سلسلے میں ایک بڑی خلیج حائل ہے، اور یہ خلیج دو کروڑ برسوں تک پھیلی ہوئی ہے لیکن جس مخلوق کا یہ ایک کروڑ ہم لاکھ سال قدیم جبڑا ہے وہ اس خلیج کو پاٹ رہی ہے یا یوں سمجھے کہ پل کا کام دیتی ہے۔ ہم نے پرو کونسل اور رز جنتھروپس کی اس درمیانی مخلوق کو کینیا پٹھکس درکری کا نام دیا ہے۔ کینیا پتھکس انسان ہرگز ہرگز نہ تھا، لیکن انسان کی طرف ہماری رہنمائی ضرور کرتا ہے۔ اس کے اوپر والے جبڑے میں وہ گہراو یا نشیب موجود تھا جو ایک لازمی انسانی خصوصیت ہے۔ یہ جھکا ؤاوپری ہونٹ کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے پٹھے کے لئے گلہر کا کام دیتا ہے۔ اور یہی پٹھا یا عضلہ ہے جو انسانوں کو بولنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یعنی ایسی انسانی قوت گویائی جو خالی خولی آوازوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ ایک بات اور بھی ہے کہ پروکونسل کے انیاب (ڈاڑھوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان والے دانت لمبے اور نوکیلے تھے، لیکن کینیا پتھکس کے انیاب چھوٹے بھی تھے اور انسانی دانتوں سے بہت مشابہ بھی۔ کینیا پتھکس اور انسان میں ان کے علاوہ اور مشترک خصوصیات کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جب کینیا پتھکس کی ہڈیاں اور زیادہ مل جائیں گی تو اس مماثلت کے بارے میں مزید تفصیل سے بتایا جاسکے گا۔ "چلی انسان" کی دریافت اس قدر اہم اور چونكا دینے والی ہے کہ زنگنتھروپس اور اس کے پیش رو بچہ کی باز یافت سے کسی طرح کم نہیں۔ ۱۹۴۷ء میں دنیا کو پہلی بار پتہ چلا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دھرتی پر حجری دور کا تمدن جاری وساری تھا۔ چار لاکھ سال قبل کے اس دور کو چلیئن( cHELLEAN کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ اس عہد کی اشیاء سب سے پہلے فرانس کے ایک مقام چلس (CHELLES) سے ملی تھیں۔ چلی تمدن کی خاص بات یہ ہے کہ اس وقت کے سنگی اوزار بآسانی شناخت ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی ایک اچنبھا یہ کہ گو افریقہ، ایشیا اور جنوب مغربی یورپ کے اکثر حصوں سے اس زمانے کی باقیات تو مل جاتی ہیں لیکن "چلی آدمی" کی کھوپڑی کسی کو بھی نہ ملی۔ قیام اولڈدوائی کے ابتدائی ایام میں ہی میں نے "چلی آلات" برآمد کر لئے تھے۔ یہ ہمیں پرت نمبر ۲ سے ملے تھے۔ ۱۹۶۰ء میں وہ سطح بھی ہم نے برآمد کرلی جہاں "چلی انسان" رہتا تھا لیکن ان لوگوں کی کوئی ایک بھی ایسی متحجر ہڈی دستیاب نہ ہوسکی جس سے پتہ چلتا کہ وہ کس طرح کے تھے؟
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues