میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳
بعض اوقات میں سوچا کرتا ہوں کہ تقدیر ہمارے ساتھ دل لگی کرتی ہے کیونکہ جونہی ہم اپنے قبل تاریخ کے پر اسرار آدمی کی تلاش کرتے وہ نظر آ جاتا۔ ایک روز میں اپنے شریک کار ماہر ارضیات رے پکرنگ کے ساتھ گھاٹی کا دورہ کر رہا تھا۔ پرت نمبر ۲میں مجھے ایک ایسی جگہ دکھائی دی جو اس سے پہلے بھی نظروں میں نہ آئی تھی۔ اگلی صبح سویرے میرا سب سے چھوٹا بیٹا فلپ اور میں جھاڑیوں سے ہوتے اس مذکورہ مقام کو چل دئے میں نے ہنستے ہوئے کہا:
”یہ جگہ کچھ ایسی ہے کہ یہاں سے ہمیں کھوپڑی ملے گی ۔ “ ابھی الفاظ میرے منھ ہی میں تھے کہ میری نگاہ کچھ استخوانی ٹکڑوں پر جا پڑی جو ایک تنگ سی دراڑ میں پڑے تھے میں وہیں گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ یہ کھوپڑی تھی انسانی کھوپڑی ، جذبات کے مارے میرے منھ سے بات بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی تھی۔ آخر ہمیں وہ کچھ مل ہی گیا تھا جس کی کھوج میں ان گنت ماہرین اثریات ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے سرگرداں تھے۔ یہ چلی انسان تھا ۔ خاصی تفصیل سے پتہ چل چکا ہے کہ کوئی چار لاکھ سال قبل چلی انسان کس طرح رہتا تھا۔
اولڈروالی اور رفورسٹ رٹن میں رکا زوں کی بھر مار ہے۔ اولڈ روالی ایس انسانی ہڈیوں سے مشابہ ہڈیوں کا کوئی شمار نہیں۔ لیکن جانوروں کی ہڈیاں بھی ناپید نہیں برسوں کی تلاش و جستجو کے دوران ہمیں گینڈے جتنے بڑے سور مشرقی افریقہ کے سیاہ گینڈے سے تقریباً گنی جسامت والے گینڈوں اور بھیڑیوں کی متحجر ہڈیاں ملیں۔ کاندھے تک ان بھیڑوں کا قد ۷ فٹ تھا اور سینگوں کا دور با رہ فٹ ، ۱۹۶۲ء میں ہم نے ایک ایسے بن مانس کی ہڈیاں بھی ڈھونڈ نکالیں جس سے بڑے اور قدیم بن مانس کی باقیات اب تک اور کہیں بھی نہیں ملی ہیں۔ ہماری عجیب ترین دریافتوں میں سے ایک کا نام "ڈانٹو کھیر تیم" ہے۔ یہ انو کھی قسم کا مخصوص ہاتھی تھا جس کی سونڈ اس کے نچلے جبڑے میں لگی ہوئی تھی۔ اولڈووائی سے ہمیں دیو پیکر جانوروں کے متحجر ڈھانچے کبھی ملے اور بہت ہی چھوٹے جانوروں کے بھی۔ ہم نے ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانور اکٹھے کئے مثلاً چوہے، پرندے، کیڑے مکوڑے، کھانے والے چوہوں سے مشابہ جانور اور چھپکلیاں وغیرہ، ان میں سے کچھ تو اتنے ننھے منے ہیں کہ ان کے جبڑوں کی چھ ہڈیاں ایک ساتھ میرے انگوٹھے کے ناخن پر آسکتی ہیں۔ ۱۹۶۱ء کی دو ماہ کی کھدائی کے دوران فورٹ ٹرنن سے ہمیں کوئی بارہ سور کاز ملے۔ ان میں سے اکثر جانور سائنس کی دنیا کے لئے بالکل نئے ہیں۔ چھوٹے قد کا ایک زرافہ ہے جو قد و قامت میں بچھڑے جتنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ موجودہ زمانے کا براہ راست مورث اعلیٰ ہو۔ جزیرہ روسنگار کازوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ پراسرار ہے اور یہاں کی یہ پراسرار بہت کیڑے مکوڑوں پھلوں اور پھولوں کے رکازوں میں مضمر ہے جو بڑی ہی کھوپڑی کے ساتھ محفوظ ملے ہیں۔ کسی ہڈی یا سونڈ کے ر کاز کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ رکا ز صحیح معنوں میں اصل ہڈی یا سونڈ ہی ہو بلکہ ہوتا یہ ہے کہ رکا ز بننے والی چیز کی شکل سرتاسر معدنیات میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن اصل صورت اور تمام تر جزئیات برقرار رہتی ہیں۔ متحجر ہونے کا عمل انتہائی سست ہوتا ہے۔
ہمیں روسنگا سے قدرت کے بہت سارے عجوبے ہاتھ آئے مثلاً تتلیوں اور پتنگوں کے پہل روپ مکھیاں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues