آدبنی ربی فاحسن تا دیبی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۴
کائنات کی ارتقائی تعبیر کے لئے اُن کے جوش وخروش کا حال یہ هے کہ چند ہڈیوں کی تلاش میں وہ پوری ایک صدی لگا دیتے ھیں کیڑے کا ایک رُوپ ایک بڑی چھپکلی کا سر جس کی زبان اب بھی اس کے منھ سے باہر نکلی ہوئی ہے اور ان سے بھی زیادہ عجیب یہ کہ پھولوں کی متحجر مکھیاں گری دار میوے اور پھل بھی دستیاب ہوئے۔ ہم نے کچھ متحجرپھلوں کے اندرونی حصے دیکھنے کے لئے ہیرے تراشنے والے قلموں سے انھیں کاٹا۔ ان رُکا زی پھولوں کی تمام اندرونی جزئیات اوربیج بالکل محفوظ تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کل کا کوئی تازہ سیب کاٹ دیاگیا ہو۔ ۱۹۶۲ء میں اولڈرو والی میں ایک اورمعمّے سے سابقہ پڑا اور میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ جس سطح پر ہمیں زنجنتھروپس ملا تھا۔ اس سے کافی نیچے سب سے نچلی پرت پر پتھر کے بنے ہوئے بڑے بڑے گول حلقے دستیاب ہوئے ۔ ان میں سے بعض تو در حقیقت ایک دوسرے کے اوپرٹکے ہوئے تھے۔ بیس لاکھ سال پہلے یہ جگہ جھیل کاکنارہ تھی اور اس وقت اس قسم کے پتھر یہاں موجود نہ تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وہاں کیوں کر وجود میں آئے۔ ایسے کون سے عوامل تھے جنھوں نے یہ قطعی اور بالکل گول سنگین دائرے یا حلقے ادب کی تحقیق ایک حدیث کے الفاظ ہیں :
آدبنی ربی فاحسن تا دیبی
میرے رب نے میری تربیت کی اور بہت اچھی تربیت کی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب کا لفظ قدیم عرب میں بھی مستعمل تھا۔ تاہم اس میں اختلاف ہے کہ ادب (بمعنی لٹریچر) کس لفظ سے نکلا ہے۔
عام خیال یہ ہے کہ یہ أدب سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دعوت کا بلاوا۔ تاہم فرانسیسی مستشرق پروفیسر نلینو کی رائے اس لفظ کے اشتقاق کے بارے میں دوسری ہے۔ وہ اس کو آداب (معنی عادت) سے مشتق مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لفظ ادب مفرد سے نہیں بلکہ دأب کی جمع سے نکلا ہے دأب کی جمع آداب ہے جو تبدیل ہو کر آداب ہوگئی ہے، جس طرح بئر اور رِئم کی جمعیں آبار اور آرآم سے بدل کر آباراور آرام ہوگئی ہیں۔ اُن کے نزدیک دأب کی جمع آداب کا استعمال اس قدر عام ہو گیا کہ اہل عرب اس جمع کی اصل او رجو کچھ اس میں تبدیلی ہوئی ہے، اس کو بھول گئے۔ ان کو یہ خیال پیدا ہو گیا کہ آداب ایسی جمع ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور اس جمع سے انھوں نے اس کا واحد بجائے داب کے ادب نکال لیا اور ادب کا عادت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد یہ لفظ اپنے اصلی معنی سے دوسرے مختلف معنوں میں منتقل ہوتا رہا۔
بنایا جائے ؟ کیا انھیں گھر کہا جاسکتا ہے ؟ کیا یہ ہواؤں نے تراشے ہیں؟
حلقوں میں ہو رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues