آدبنی ربی فاحسن تا دیبی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵
میں خدا کو مانتا ہوں ۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں نے زندگی میں جن بہترین انسانوں کا تجربہ کیا وہ سب خدا کو نہ ماننے والے لوگ تھے ،، ڈاکٹر سید حسین ظہیر (۱۹۰۱ - ۱۹۰۰) ہندوستان کے چوٹی کے سائنس داں تھے۔ ان کا شمار ڈاکٹر من ڈاکٹر وکرم سارا بائی ڈاکٹر کھو رانا، ڈاکٹر بھا بھا، ڈاکٹر سیتھنا جیسے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر بے شمار سائنسی تنظیموں کے ممبریا عہدے دار تھے۔ ان کو پدم و بھوشن کا خطاب بھی ملا تھا۔ اپنے سیاسی ذوق کی وجہ سے جنگ آزادی کے زمانہ میں انھیں جیل جانے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ ذاتی طور پر وہ انتہائی شریف اور اعلیٰ کردار کے آدمی تھے۔ غریب طالب علموں کی فیس اپنی جیب سے دیا کرتے تھے۔
۱۹۶۲ ء میں ہندوستان کی شمالی سرحد پر ایک پڑوسی ملک سے مسلح جھڑپوں کے بعد انھوں نے اپنے ایک رفیق ڈاکٹر امر جیت سنگھ کو تار دیا جو الیکٹرانکس کے ماہر تھے اور بدیش میں کام کر رہے تھے اس میں ولولہ انگیز الفاظ کے ساتھ کہا گیا تھا کہ ہندوستان واپس آکر مادر وطن کی خدمت کریں، وہ واپس آگئے۔ ڈاکٹر ظہیر اس وقت کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر سنگھ کو اس کے الیکٹرانکس کے شعبہ کا ڈائرکٹر بنا دیا۔ ان کے پالنی کے انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر ظہیر ایک بار گئے۔ ڈاکٹر سنگھ نے رسالہ فروری ۱۹۷۷ء دوران ملاقات میں بتایا کہ ایک پروجیکٹ کے سلسلہ میں بعض برآمدی مشینری اور آلات کی شدید ضرورت نہیں۔ رخصت ہوتے وقت ڈاکٹر ظہیر نے پوچھا اس کے لئے کتنا زر مبادلہ درکار ہوگا! انھوں نے تخمینہ بتایا۔ ڈاکٹر ظہیر نے حکومت پر زور ڈال کر وہ مشنری باہر سے منگوادی۔
ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔ مہینہ کے دوسرے سنیچر کا دن تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا دفتر ضابطہ کے تحت بند تھا مگر وہ خود حسب معمول دفتر میں آئے ہوئے تھے۔ ایک نوجوان عورت جس کے شوہر کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا، ڈاکٹر صاحب سے ملنے کے لئے ریسپشن ہال میں کیئر ٹیکر سے درخواست کر رہی تھی اور وہ اُسے روک رہا تھا۔ اتنے میں ڈاکٹر صاحب کسی کام سے باہر نکلے۔ عورت تیزی سے ان کے سامنے آئی اور غصہ میں بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا: یہ کون سی حکومت ہے کہ میں ایک گھنٹہ سے یہاں بیٹھی ہوں اور آپ کے لوگ مجھے آپ سے ملنے نہیں دیتے۔ ڈاکٹر ظہیر نے اس کی باتوں کو سن کر نہایت نرمی سے کہا: آپ کو جو تکلیف پہنچی اس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں۔ آپ اپنی شکایت تحریری طور پر مجھے دے دیں۔ میں آپ کا کام کرنے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues