کی پوری کوشش کروں گا“
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
کی پوری کوشش کروں گا“
1975ء میں وہ ایک سرکاری کام کے سلسلہ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ کل اُن کا کیا انجام میں سری نگر گئے ہوئے تھے جس دن وہ دہلی لوٹنے والے تھے موسم کی خرابی سے ان کے جہاز کی پرواز ملتوی ہوگئی۔ چونکہ دوسرے دن ان کو ایک ضروری میٹنگ میں شامل ہونا تھا۔ انھوں نے طے کیا کہ وہ کار سے پٹھانکوٹ جائیں اور وہاں سے ٹرین کے ذریعہ دہلی کا سفر کریں مگر وقت پر کار فراہم نہ ہوسکی، انھوں نے ٹیکسی سے اپنا سفر شروع کیا۔ ٹیکسی بھی راستے میں خراب ہوگئی ۔ اب انھوں نے ایک جیپ لی، پٹھانکوٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ ٹرین میں جگہ نہیں مل سکتی۔ اب وہ جیپ ہی کے ذریعہ دہلی کے لئے روانہ ہو گئے۔ ڈرائیور تھکا ہوا تھا، اونگھنے لگا، ڈاکٹر صاحب نے اس کو مجبور کیا کہ وہ پچھلی سیٹ پر آرام کرے اور خود جیپ چلانے لگے۔ موسلا دھار بارش ہو رہی تھی مگر ۶۴ سال کا یہ انسان ساری رات جیپ چلاتا رہا۔ صبح کو وہ ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے ٹرین سے پہلے دہلی پہنچ چکا تھا۔ اس قسم کی بے شمار خوبیوں کے باوجود ڈاکٹر ظہیر خدا اور مذہب کے قائل نہ تھے۔ ایک بار اُن کے ایک رفیق کار نے اپنے دادا کے انتقال کے بعد کچھ رسوم ادا کرنے کے لئے چھٹی کی درخواست دی تو انھوں نے یہ لکھ کر واپس کردی مجھے کامل یقین ہے کہ اگر روح کوئی چیز ہے تو آپ کے دادا کی روح آپ کے سائنسی کام کو دیکھ کر زیادہ خوش ہوگی۔ بجائے اس کے کہ آپ اس کے لئے کوئی رسم ادا کریں“۔
۲۳ دسمبر کو انتقال سے کچھ پہلے ڈاکٹر ظہیر کو زکام ہو گیا تھا۔ اس کا ذکر انھوں نے ڈاکٹر اختر حسین ہونے والا ہے تو ان کا آج اُن کے لئے بے لذت ہو جائے یہ آنے والے کل سے بے خبری ہے جس نے لوگوں کے آج کو ان کے لئے لذیذ بنا رکھا ہے ۔
دہنو کے نام ایک خط میں کیا۔ مکتوب الیہ نے اپنے جواب میں دعائیہ کلمات کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ خدا کی ذات بالا تر ہے اور وہ جو کچھ کرتا ہے اچھا کرتا ہے ڈاکٹر ظہیر نے دوبارہ اپنے جواب میں لکھا: Since I do not believe in God, I do not believe in his supremacy also. It is only the good work done by good human beings which became supreme over the bad work done by the bad human beings. چونکہ میں خدا پر یقین نہیں رکھتا، میں اس کی بالاتری کا بھی قائل نہیں میرا عقیدہ ہے کہ اچھے آدمیوں کا کیا ہوا اچھا عمل ہی سب سے بڑی چیز ہے جو برے آدمیوں کے برے عمل پر فوقیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر اختر حسین نے جواب میں جو خط لکھا اس میں یہ جملہ بھی تھا :
I do confess that in my expe- rience of last 20 years, the best human beings I have found are those who do not believe in God. میں اعتراف کرتا ہوں کہ میرے ۲۰ سال کے تجربہ میں بہترین انسان وہی لوگ تھے جو خدا کو نہیں مانتے تھے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues