رودادِ سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۶۵
رودادِ سفر
دہلی سے تقریباً سو میل کے فاصلہ پر ”زمینداروں“ کا ایک قصبہ ہے۔ پچھلے دنوں یہاں چند بار جانے کا اتفاق ہوا: ۱۔ مئی ۱۹۷۳ ۲۔ جولائی ۱۹۷۳ ۳۔ جولائی ۱۹۷۵ یوپی کے اس قصبہ میں کبھی مسلمانوں کا بڑا جاہ و جلال تھا۔ مگر زمینداری کے خاتمہ کے بعد اب دنیا بدل چکی ہے، قدیم وضع کی چو پالوں میں اب بھی یہاں قہقہے گونجتے ہیں۔ اگر چہ یہ چو پالیں اب زیادہ تر وقت گزاری کی بیٹھک ہو کر رہ گئی ہیں۔ جب کہ زمینداری کے زمانہ میں وہ اس علاقہ کے اقتدار کا مرکز تھیں۔ یہاں ایک درجن مسجدیں ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ کئی سو سال کے اقتدار کے باوجود یہاں کے لوگوں نے بستی میں کوئی درس گاہ قائم نہیں کی اور نہ کوئی بڑی جامع مسجد بنائی۔ نہ صرف نماز جمعہ بلکہ عید کی نماز بھی اس چھوٹے سے قصبہ میں ایک سے زیادہ مقام پر ہوتی ہے۔
یہ قصبہ ایک ٹاؤن ایریا ہے۔ یہاں ایک ہائی اسکول ہے جو ۱۹۶۲ء میں قائم ہوا تھا۔ طلبہ کی تعداد پانچ سو سے زیادہ ہے۔
”اس اسکول میں مسلمان طالبِ علم کتنے ہوں گے؟ “ میں نے اسکول کے ایک استاد سے پوچھا۔
”تقریباً پچاس“ انھوں نے جواب دیا۔
”یعنی پچاس فی صد“ میں نے دوبارہ سوال کیا۔
”نہیں صرف پچاس“
گویا قصبہ کے مسلمان جو یہاں کی دس ہزار آبادی میں نصف کے حصہ دار ہیں، تعلیم میں ان کا حصہ دس فی صد سے زیادہ نہیں۔ اگر آپ بازار میں نکلیں اور تجارتوں میں مسلمانوں کے تناسب کا اندازہ لگائیں تو وہ اتنا کم ہوگا کہ حسابی غلطی کے الزام سے بچنے کیلئے ہی ان کو صفر سے زیادہ کہا جا سکتا ہے۔ محرومیوں کی اس فہرست میں صرف یہاں کی زرخیز زمینیں مستثنیٰ ہیں جن کے بڑے حصے پر اب بھی مسلمان قابض ہیں۔ لیکن اگر اس تلخ حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ بیشتر نے اپنی زمینیں جنس یا بٹائی پر دے رکھی ہیں تو یہ اندیشہ بہت زیادہ بعید از قیاس نہیں کہ مستقبل میں زمینوں کے ساتھ بھی وہی قصہ پیش نہ آجائے جو اپنی غفلت سے بقیہ چیزوں میں پیش آچکا ہے۔
"آپ اپنی زمینوں پر خود کھیتی کیوں نہیں کرتے" اگر آپ ان میں سے کسی سے سوال کریں تو وہ جواب دے گا کہ ہم کو جنس یا بٹائی پر دینے میں جو فائدہ ہے، وہ خود کھیتی کرنے میں نہیں ہو سکتا۔ " یہ جواب بظاہر صحیح ہے، مگر انتہائی کوشش کے باوجود شاید ہی ان میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار ہو کہ موجودہ نظم جہاں ان کو یہ فائدہ دیتا ہے وہیں وہ ایک بہت بڑی چیز ان سے چھین رہا ہے، اور وہ جدوجہد کا حوصلہ ہے۔ موجودہ انتظام کے تحت ایک باپ اپنی اگلی نسل کو تن آسانیوں کی وراثت دے رہا ہے۔ حالانکہ اگر وہ انھیں مشقت اور جدوجہد کی وراثت دیتا تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر تھا۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس راز کو سمجھ لیا ہے۔ سایہ کے نیچے مونڈھوں پر بیٹھ کر وقت گزارنے کے بجائے وہ ٹریکٹر کی سیٹ پر زندگی کا امتحان دینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ دنیا میں وہی لوگ اپنے لئے جگہ بناتے ہیں جو وقت کے حقائق کا سامنا کرنے اور ان کے مقابلے میں زندگی کا ثبوت دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ تن آسانیوں نے کبھی کسی قوم کے لئے زندگی کا حق تسلیم نہیں کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues