Al-Risala · February 1977 · page 58

”نہیں صرف پچاس“

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸

کوئی معقول بات آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک یں آتی جب تک اپنی نامعقولیت کی قیمت ادا کرنے کے لئے اس کی جیب میں پیسے موجود ہوں۔

اور یقیناً یہ قصبہ اس عام قانون سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ دوسری مسلم بستیوں کی طرح یہاں بھی آپس کا اختلاف مسلمانوں کی قوت کو کمزور کر رہا ہے۔ نئے انقلاب نے مسلمانوں سے بہت سی چیزیں چھین لی ہیں۔ تاہم ایک چیز اب بھی پوری طرح موجود ہے اور وہ خود ان کا اپنا وجود ہے۔ اس وجود کو متحدہ شکل میں باقی رکھنا ہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ مگر جو لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں، وہ کچھ ایسے نشے میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح بھی اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ سب سے زیادہ اندوہناک بات یہ ہے کہ لڑائی نہ کرنے کی بات کسی کی سمجھ میں اس وقت تک آتی ہی نہیں جب تک اس کے پاس لڑائی کی قیمت ادا کرنے کے لئے پیسے موجود نہ ہوں۔ حالاں کہ اسی پیسے کو کو اگر وہ اپنی تعمیر و ترقی میں لگائے تو خود فریق مخالف کو مغلوب کرنے کے لئے بھی اس سے زیادہ کارگر کوئی حربہ نہیں۔ بہترین صلاحیتیں بے سود مقابلوں میں ضائع ہو رہی ہیں۔ حالاں کہ وہ تجارت یا اور کوئی تعمیری کام کر کے زیادہ بڑے پیمانہ پر اپنے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ قصبہ میں کوئی قابلِ ذکر اسلامی مدرسہ نہیں۔ یہاں مسلمانوں کے پاس بڑی بڑی زمینداریاں تھیں۔ وہ کئی سو برس تک اس تاریخی قصبہ کے اقتدار پر چھائے رہے ۔ انھوں نے اپنی عظمت کے نشان کے لئے عالی شان حویلیاں اور چھپالیں بنائیں۔ مگر اپنے دین کی حفاظت و فروغ کے لئے وہ کوئی دینی درس گاہ اپنی بستی میں قائم نہ کرسکے۔ دینی درس کا لفظ موجودہ زمانہ میں کچھ بد نام سا ہوگیا ہے، حالاں کہ یہی درس گاہیں ہر دور میں مسلمانوں کا دینی اور تہذیبی مرکز رہی ہیں۔ دورِ نبوت میں ’’صفہ‘‘ اسی قسم کی ایک درس گاہ تھی جس سے وہ لوگ تربیت پاکر نکلے جنہوں نے سارے عالم میں علومِ نبوت کی اشاعت کی۔ پھر یہی دینی درس گاہیں ہیں جہاں اسلامی دورِ حکومت کے وزراءو قضاة تیار ہوتے تھے۔ یہی دینی درس گاہیں ہیں جنہوں نے زرہ علماء رومضنفین پیدا کئے جنہوں نے ہر دور میں اسلام کی فکری اور علمی نمائندگی کی۔

مئی ۱۹۷کیں۔ ۱۳ء میں قصبہ کے لوگوں نے باہم مشورہ سے ایک مدرسہ کا قیام منظور کیا تھا۔ جولائی ۱۹۷۵ء میں دوبارہ ایک اجتماع میں طے کیا گیا کہ مقامی مکتب کو ترقی دے کر ایک بڑا دینی مدرسہ بنایا جائے اس کے وسائل کی فراہی کے لئے بھی مختلف لوگوں نے فیاضانہ پیش کشیں۔ ۳ / جولائی کی ایک نشست میں، جس میں بستی کے اکثر ممتاز ، افراد شریک تھے۔ مدرسہ کے لئے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔ متفقہ طور پر طے پایا کہ ہر شخص کے پاس جتنے کھیت یا باغ ہیں۔ ایک روپیہ فی بیگھہ سالانہ کی شرح سے وہ مدرسہ کی امداد کرے گا۔

اس قسم کا فیصلہ کسی بستی میں ایک معیاری درس گاہ کو وجود میں لانے کے لئے کافی ہے ۔ مگر آپ کو تعجب نہ ہونا چاہئے اگر میں آپ کو یہ خبر دوں کہ یہ فیصلہ اس عام انسانی کمزوری سے مستثنیٰ نہ رہ سکا جس کو کسی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:

لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادہ کی *

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page