”نہیں صرف پچاس“
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۹
تعارف و تبصرہ :
حلية النبي از مولانا سید احمد قادری صفحات ۸۰ ۔ قیمت ایک روپیہ پتہ: مکتبہ الحسنات رام پور یوپی یہ کتاب ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ وسراپا سے متعلق ہے ۔ کتاب کافی جامع ہے اور احادیث وسیر کی مستند کتابوں کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ۔
تاہم بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مصنف نے غالباً حلیہ پاک اور نعت نبوی میں فرق نہیں کیا۔ مثال کے طور پر خوشبوئے بدن" کے عنوان کے تحت یہ شعر نقل کیا گیا ہے:
ولو ان رکبا یمموہ لقا دهم نسیم شذاه واستدل به الرکب اگر سواروں کی کوئی جماعت آپ کا قصد کرتی تو آپ کی نسیم عطر زا اس کی رہبری کرتی اور وہ جماعت آپ کا پتہ لگا لیتی (۷)، یا مثلاً یہ کہ ”جب آپ دراز قامت اشخاص کے ساتھ چلتے تو ان سے اونچے ہو جاتے اور جب ان سے الگ ہوتے تو آپ کے قد کا اعتدال لوٹ آتا۔ یہ اس لئے کہ کوئی نفس صورَةً بھی آپ سے نہ بڑھے، جیسا کہ معنیٰ نہیں بڑھ سکتا تھا (۵۹- ۵۸) اس قسم کے اقتباسات نظم ونثر میں نعت ہیں نہ کہ حلیہ رسول ۔ بعض مقامات پر ادنی فروگذاشت نظر آتی ہے مثلاً آپ کی نعت میں ابوطالب کی طرف یہ شعر منسوب کیا جاتا ہے :
رسالہ فروری ۱۹۷۶ء دابيض ليستسقى الغمام بوجهه اس کا جمہ کتاب میں ان الفاظ میں درج ہے: بدليا آپ کے چہرے کے طفیل میں پانی برساتی تھیں“، صحیح تر ترجمہ یہ ہوگا: آپ کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جائے۔ کتاب کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے: ”شیفتگان حسن وجمال جس طرح شمع رخ کے پروانے ہوتے ہیں اسی طرح سنبل زلف کے دیوانے بھی وہ نرگس چشم کے بھی بیمار ہیں، اور سرو قامت کے وارفتہ بھی۔ وہ حسن کی ہر ادا پر جان چھڑکتے ہیں“۔ اسی طرح دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”آپ نہ صرف یہ کہ مجموعی حیثیت سے حسن و جمال کے بے مثال پیکر تھے بلکہ ہر ہر عضو حسن کے ایسے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا جس کی کہیں نظیر نہیں۔ آفتاب آپ کے چہرے پر قربان، ماہتاب آپ کی پیشانی پر صدقے، ہلال نو آپ کے ابرو کا فدائی، نرگس آپ کی آنکھوں کی بیمار، سنبل آپ کے گیسو کی آشفتہ، سرو آپ کی قامت کا شیفتہ، در شہوار آپ کے دانتوں پر نثار، غرض کائنات کی ہر حسین شے آپ کے جمال پر قربان تھی۔ آپ کائنات کی وجہ تخلیق، اس کی جان اور اس کی روح تھے اس لئے آپ کی محبوبیت نہ صرف جانداروں پر اثر انداز تھی، بلکہ شجر و حجر سب آپ کی محبت میں گرفتار تھے۔
همچوں تو ناز یمنی ، را با لطافت گیتی نشان ندادہ ایز دنیا فریدہ “ کتاب کے اسی اسلوب کی بنا پر اس کے دیباچہ نگار مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے: ”اس رسالہ کے مصنف ماشاء اللہ عالم بھی ہیں، شاعر بھی ہیں، اس لئے شعر و ادب کی زبان حسن و عشق میں انھوں نے اہل شوق کے لئے حلیہ مبارکہ کی ایک ایک چیز کو پوری تفصیل کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues