ساتھ بیان فرمایا ہے “
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱
سال و جواب ایک صاحب قاہرہ سے لکھتے ہیں:
" آپ کی کتاب جو یہاں حکمتہ الدین کے نام سے شائع ہوئی ہے اس پر ایک جدال پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ اس کے سخت موید ہیں اور کچھ لوگ سخت مخالف۔ قاہرہ یونیورسٹی کے طلبا کے درمیان اس کتاب کے بارے میں سیمینار بھی ہو چکا ہے۔ مخالف گروپ کا کہنا ہے کہ آپ نے جہاد ہی کو ختم کر دیا ہے اور دین کو صوم و صلوٰۃ میں محدود کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کے جرائد میں بعض تنقیدی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں "۔
جواب
جہاد بلا شبہ اسلام میں افضل ترین عبادت ہے۔
مگر جہاد کو قتال کے معنی میں لینا اتنا ہی غلط ہے جتنا اس کو دین کی فہرست سے خارج کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ امت محمدی کا جہاد، دعوت ہے۔ قرآن میں شہادت حق کی راہ میں قوت صرف کرنے کو جہاد کہا گیا ہے درج ۔ آخر ) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کے اوپر تبلیغی جہاد کرو (فرقن - ۵۲) قرآن میں دعوت کا حکم آیا تو خود اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بھاری حکم (مزمل ۔ (۵) قرار دیا۔ دعوت و تبلیغ کو اتنا بڑا کام بتایا گیا کہ اس میں پوری طرح لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلکان کر لے (لعلّک باخع نفسك ) موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تحریکوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان میں یہ غلطی سر فہرست ہے کہ انھوں نے جہاد کا مطلب قتال یا سیاسی معرکہ آرائی سمجھ لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کا میدان، دعوت کے بجائے سیاست بن گیا اور مؤمنانہ سرفروشی کے جذبہ کی تسکین کے لئے اس دنیا میں صرف دو کام باقی رہ گئے_ اگر موقع ہو تو تلوار زنی ورنہ تقریر و بازی_ مصر، الجزائر اور ہندوستان اس کی نمایاں مثال ہیں_ ان علاقوں میں جب "استعمار" یا "باطل اقتدار" کے خلاف جنگ و پیکار کے مواقع تھے تو لاکھوں مجاہدین اپنے جان و مال کی قربانی دیتے رہے، اور جب اس کا موقع ختم ہوگیا تو اب انھیں اس کے سوا کوئی کام نظر نہیں آتا کہ مفروضہ طاغوتی سیاست کے خلاف تحریر و تقریر کے لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اور جب اس کا موقع بھی باقی نہ رہے توگوشہ گیر ہو کر ختم خواجگان کے ورد شروع کر دیں!
جہاد ہی وہ طاقت ہے جس سے اسلام اس زمین پر قیام و استحکام حاصل کرتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانہ پر جذبہ جہاد کے استعمال کے باوجود اسلام کو اس دور میں قیام و استحکام حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کا جذبہ اپنے نکاس کا صحیح راستہ نہ پا سکا اور غلط سمت میں بہہ کر ضائع ہو گیا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک بڑے دریا کا پانی بے پناہ مقدار میں بہہ کر سمندر میں جاگرے اور اس کے ساحل کے دونوں طرف کھیتیاں پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ کر ختم ہورہی ہوں_ صرف اس لئے کہ دریا کے پانی کو ان کھیتوں کی طرف موڑنے کا انتظام نہ ہو سکا تھا۔
دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے کان میں کچھ الفاظ ڈال دیئے جائیں یا ان کی غلط روش پر تنقید کر دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک انتہائی قربانی کا عمل ہے۔ اپنا وقت، اپنے جذبات، اپنا مال، غرض اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو دعوت کہتے ہیں۔ قرآن میں حکم ہے کہ مدعو کے لئے داعی کے دل میں انتہائی خیر خواہی ہو، جو بات کہی جائے وہ قول بلیغ کی زبان میں اور مخاطب کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues