ساتھ بیان فرمایا ہے “
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۶۲
اپنی قابل فہم اصطلاحوں میں ہو، مدعو کی طرف سے ہر قسم کی ایذا پر مکمل صبر کیا جائے، مدعو کی طرف سے کسی اجر کی توقع نہ رکھتے ہوئے اپنا مال اور اثاثہ اس راہ میں خرچ کیا جائے۔ مدعو کی طرف سے اعراض پر جھنجلانے کے بجائے اس کی ہدایت کے لئے دعائیں کی جائیں، ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کی جائے۔ دعوتی کام کو مسلسل تا عمر جاری رکھا جائے سا یہ ایسا ایک عمل اگر اس کے پورے آداب کے ساتھ شروع کیا جائے اور اس کا مکمل حق ادا کیا جائے تو یہ اتنا بڑا اور اتنا نفس کش عمل ہےکے بڑے سے بڑے انسان کی شخصیت اس کی ذمہ داریوں سے بلبلا اٹھے اور کبھی اس کی ادائیگی کی طرف سے اپنے کو سبک دوش نہ سمجھے۔
اس دعوتی عمل کے ظہور کے لئے قدیم زمانہ میں جو طریقے راج تھے، اب ان میں بے شمار نئے طریقوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں دعوتی کام نے بھی ، تدابیر اور ذرائع کے اعتبار سے، نئی وسعت اختیار کر لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا جہاد آج اتنا وسیع الاطراف ہو چکا ہے کہ " پیٹرول ٹرالر" کی مہیب دولت بھی اس کا حقیقی بل ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمانی فرق کو دیگر مذاہب، مثال کے طور پر عیسائیت نے خوب سمجھا اور اس کو بھر پور طور پر اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے استعمال کیا۔ مگر مسلمان اس میدان میں اس قدر پیچھے ہیں کہ جدید امکانات کا انھیں شعور تک نہیں۔ حتی کہ دعوتی کام ان کو اتنا معمولی نظر آتا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے چسپے کام کو جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے !
ہر قسم کی کتابیں قرآن، درسیات اور دوسرے موضوعات پر کسی بھی ادارہ کی چھپی ہوئی ہم سے طلب کیجئے محصول ڈاک بذمہ خریدار ___________________ روانگی بذریعہ وی پی رساله بك ڈپو ۱۰۳۶ کشن گنج - دهلی ۱۱۰۰۰۶
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues