ظ ۔ أ ۔ خ
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳
ان کی تعلیم عیسائی اسکولوں میں ہوئی، وہ فرانس کی فوج میں شامل ہوئے انھوں نے غیر اسلامی نظام کے تحت اقتدار کی کرسی کو قبول کیا مگر کوئی چیز بھی ان کے لئے حق کی قبولیت میں مانع نہ بن سکی۔ السیر صلاح الدین احمد بوگاسا اسی لئے اگست ۱۹۷۲ء میں انھوں نے اپنے ملک میں تمام سینما گھر بند کر دیئے۔ کیونکہ مغربی فلمیں عوام کے اخلاق کو برباد کر رہی تھیں۔ انھیں دنوں انھوں نے چوروں کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کیا۔ اسرائیل کے سلسلہ میں ان کا موقف بہت سخت ہے۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء میں انھوں نے اپنے ملک کے تعلقات اسرائیل سے ختم کر دیئے تھے۔ صدر بو کا سا کا ملک جمہوریہ وسطی افریقہ اپنے نام کے مطابق بالکل افریقہ کے وسط میں واقع ہے۔ نقشہ میں اس کو چاڈ ، کانگو، سوڈان اور کا میرون کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے الخبر الذی أهملناه !
صدر بوکاسا اگر چہ مشرف باسلام ہوئے ہیں، لیکن برسوں سے خود اپنی فطرت کے تحت وہ بعض اسلامی احکام تک پہنچ گئے تھے ۔ ۱۹۷۱ء میں صدر موصوف نے اپنے ملک میں کئی ایسی سزائیں رائج کیں جو کہ اسلامی "حدود" سے بڑی حد تک مشابہ تھیں ۔ اس خبر کو عالمی صحافت نے "قدیم دور وحشت کی طرف واپسی" کا نام دیا تھا، اور مسلم ملکوں کی صحافت نے اسے اہمیت کے قابل ہی نہیں سمجھا۔ اس سے متاثر ہو کر راقم الحروف نے مصر کے روز نامہ "الاخبار" میں "الخبر الذی أهملناه" (جس خبر سے ہم نے اعراض برتا) کے عنوان سے مضمون شائع کیا تھا۔ مضمون میں صدر بوکاسا کی رائج کردہ سزاؤں کی تفصیلات دیتے ہوئے میں نے لکھا تھا جب کہ اہل اسلام خود اسلامی حدود جاری کرتے ہوئے شرماتے ہیں، دوسرے لوگ اپنی عقل سلیم سے اسلامی تعلیمات تک پہنچ رہے ہیں۔
ظ ۔ أ ۔ خ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues