اداریہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۶
آخرت جو هر قسم کی کمیوں اور خرابیوں سے پاک ہوگی کسی درخت پر کوئی پتھر اٹکا ہوا ہے ، آپ اس کے نیچے سے گزرے ، یکایک پتھر آپ کے اوپر گرا اور آپ کا سر ٹوٹ گیا ، کیا آپ اس درخت پر خفا ہوں گے اور اس سے لڑائی کریں گے ۔ نہیں ، بلکہ خاموشی سے اپنا سر پکڑے ہوئے گھر چلے جائیں گے یا اسپتال جاکر اپنا علاج کرائیں گے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر آپ کے اوپر ایک پتھر کھینچ مارے اور آپ کا چہرہ زخمی ہو جائے تو آپ اس کے اوپر برس پڑتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کا بھی سر توڑ ڈالیں جس طرح اس نے آپ کا سر توڑا ہے اور اگر خود اس کا سر معلوم ہوا کہ درخت اور انسان میں بہت بڑا فرق ہے، درخت کوئی "برائی" کرتا ہے تو اس کو اس برائی کی سزا نہیں دی جاتی۔ اسی طرح درخت کوئی "نیکی" کرتا ہے تو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کو اس کی نیکی کا انعام دیا جائے، جب کہ انسان کے لئے ہم دونوں چیزیں چاہتے ہیں۔ ہمارا ذہن پکارتا ہے کہ انسان کوئی بُرا عمل کرے تو اس کو ضرور اس کی سزا دی جائے اور انسان کوئی اچھا عمل کرے تو ضرور اس کو اس کا انعام ملے۔
سارے انسانوں کی فطرت یہی مانگ رہی ہے توڑ نہیں سکتے تو معاملہ کو عدالت میں لے جاتے ہیں اور وہاں اس کو قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مثال لیجئے ۔ آم کا ایک بڑا درخت ہے جس پر فصل کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں پھل آتے ہیں۔ یہ پھل پکتے ہیں اور ایک ایک کر کے گرجاتے ہیں یا توڑ لئے جاتے ہیں ، خود آم اپنے ایک پھل کو بھی نہیں کھاتا۔ مگر کوئی شخص کبھی یہ کہتا ہوا نہیں سنا گیا کہ افسوس کہ آم نے اتنے پھل پیدا کئے مگر وہ خود اپنے پھل کو نہ کھا سکا‘ اس کے برعکس ایک آدمی زندگی بھر کی کمائی سے اپنے لئے ایک شاندار مکان بنائے اور مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہی مر جائے تو ہر دیکھنے والا شخص کہے گا کہ کیسا افسوسناک ہے یہ واقعہ کہ آدمی نے محنت کر کے ایک گھر بنایا اور اس کے اندر رہنا اس کو نصیب نہ ہوا۔
اور تمام علوم متفقہ طور پر اس کی اہمیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ یہی چیز اس دنیا میں حاصل کرنا ممکن نہیں۔ ہٹلر نے ایک ایسی جنگ چھیڑی جس میں پانچ کروڑ آدمی ہلاک ہوگئے ۔ کیا کوئی بھی حکومت ہٹلر کو اس کے جرم کی سزا دے سکتی ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ یہ سکتے ہیں کہ ہٹلر کو گولی مار کر ختم کردیں حالانکہ یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ ہٹلر اگر ۵ کروڑ بار زندہ ہو اور ۵ کروڑ بار گولی مار کر ہلاک کیا جائے تب بھی اس کی سزا مکمل نہیں ہوگی۔ پھر یہ معاملہ ہٹلر اور اسٹالن جیسے ظالموں کا ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک معمولی آدمی بھی جب کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے جرم کے اثرات اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ نہ کوئی دنیوی عدالت اس کے سارے پہلوؤں کی تحقیق کر سکتی اور نہ کوئی جیل خانہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دے سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues