Al-Risala · March 1977 · page 7

لطیفہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۷

جو اس دنیا میں کوئی جرم کرتا ہے، وہ اپنے جرم کی حقیقی سزا پائے بغیر مر جاتا ہے، حالانکہ ساری انسانیت پکار رہی ہے کہ اس کو اس کے جرم کی پوری پوری سزا دی جائے۔

یہی معاملہ انعام کا بھی ہے۔ ایک شخص کو کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں بالفرض کسی کو مسرت مل جائے، جب بھی وہ چند لمحات سے زیادہ اس کا لطف نہیں اٹھا سکتا۔ ہر انسان اپنے لئے ایک جنت چاہتا ہے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں جنت نہیں بن سکتی۔ جنت بنانے کے لئے کوئی اور دنیا اقتدار ملے مگر اقتدار پا کر وہ فرعون نہ بنے بلکہ عام انسانوں کی طرح اپنے کو ایک انسان سمجھے اور اقتدار کو لوگوں کی حقیقی خدمت میں لگائے ، کیا اس دنیا میں اس کو اس عمل کا بدلہ دیا جاسکتا ہے ۔ ایک شخص اپنی محنت سے دولت کمائے اور اس دولت کو غریبوں اور محتاجوں کی ضرورتیں پوری کرنے میں صرف کر دے، کیا اس کو اس عمل کا انعام دینا ممکن ہے ۔ ایک شخص علم میں کمال پیدا کرتا ہے اور اس علم کو انسانیت کی تعمیر میں لگا دیتا ہے ، کیا اس کو اس خدمت کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے نہیں بلکہ ایک شخص کوا کے چھوٹے درکار ہے جو موجودہ دنیا کی محدودیتوں اور نقائص سے پاک ہو۔

یہ صورتِ حال پکار رہی ہے کہ موجودہ دنیا نامکمل ہے اور اس دنیا کی تکمیل کے لئے ایک اور دنیا وجود میں آنی چاہیے۔

لطیفہ

ابوبکر محمد ابن درید (۳۲۱-۲۲۳ھ) لغتِ ادب اور انساب کا امام مانا جاتا ہے۔ وہ شراب پیتا تھا اور عطیا۔ راہ بخشش میں بہت مال صرف کرتا تھا دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک ہی پٹ سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ اس دنیا میں آدمی بیماری ، بڑھاپا ، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ بالفرض اور حریفوں اور دشمنوں میں بہت مانوس تھا۔ ایک مرتبہ اس کے یہاں ایک سائل آیا اور اس سے کچھ مانگا۔ اس وقت ابن درید کے گھر میں شراب کے ایک مٹکے کے سوا اور کچھ نہ تھا چنانچہ اس نے وہی مٹکا سائل کو دے دیا۔ خادم نے شراب صدقہ کرنے پر شرعی اعتراض کیا تو وہ بولا " اس کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے" پھر اس نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ لن تنالوا البرحتى تنفقوا مما تحبون " جب تک تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو نیکی کا مقام ہرگز نہیں پا سکتے “۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ جلد ہی اس کے مٹکے کے بدلے شراب کی جگہ گریں۔

کسی کے حسن عمل کا اندازہ کرکے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک جنت" بنادی جائے ، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں لو مشراب کے دس مٹکے ہدیہ پیش کئے گئے۔ ابن ورید نے اپنے خادم سے کہا: "دیکھو ہم نے ایک مٹکا دیا تھا اور ہمارے پاس دس مٹکے آگئے ۔ "

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page