لطیفہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۸
جب شاہ جاپان نے ترکی کے سلطان سے درخواست کی کہ اسلام کی اشاعت کے لئے جاپان میں اسلام کے مبلغ بھیجے جاپان میں بدھزم کا آغاز اس طرح ہوا کہ کوریا کے راجہ نے شاہ جاپان (یماتو) کو ۵۳۹ میں ایک تحفہ بھیجا۔ یہ تحفہ دو چیزوں پر مشتمل تھا: گوتم بدھ کا مجسمہ اور ان کی تعلیمات کا ایک مختصر صحیفہ۔ کوریا کے راجہ نے لکھا کہ یہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے، جو میں آپ کو بھیج سکتا ہوں۔ اس طرح بدھزم ایک مذہبی تحفہ کی شکل میں چھٹی صدی عیسوی میں جاپان میں داخل ہوا۔ اور تھوڑے دنوں بعد شہزادہ شوٹوکو (۵۷۴ - ۶۲۱ ) کے زمانہ میں جاپان کا سرکاری مذہب بن گیا۔ مین اینڈ ہز گاڈ MAN AND HIS GOD عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ سے پچاسی برس پہلے جاپان میں اسلام کے حق میں پیش آیا۔ مزید اس اضافہ کے ساتھ کہ اس بار شہنشاہ جاپان نے خود یہ فرمائش کی تھی کہ اسلام کو اس کے ملک میں بطور "تحفہ" بھیجا جائے۔ یہ ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے جب کہ عالم اسلام میں بے شمار بڑی بڑی شخصیتیں موجود رہتی ہیں۔ مگر اس پیش کش کے جواب میں کچھ نہ کیا جاسکا، حالاں کہ اگر بروقت اس سے فائدہ اٹھایا جاتا تو آج نہ صرف جاپان بلکہ شاید ایشیا کی تاریخ دوسری ہوتی۔ جاپان کا پرانا قومی مذہب شنتو ہے۔ مگر اس کی کوئی مقدس کتاب نہیں۔ یہ مذہب سے زیادہ قومی روایات کا ایک مجموعہ ہے۔ کنفیوشین مذہب تیسری صدی میں چین سے اور بدھ مت چھٹی صدی عیسوی میں کوریا سے جاپان آئے۔ جاپان کی بیشتر آبادی انھیں تینوں مذاہب کو مانتی ہے سولھویں صدی کے نصف آخر میں عیسائی مذہب پرتگیزیوں کے ذریعے جاپان میں داخل ہوا، اور بہت سے جاپانیوں کو مسیحی بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ مگر یہ پرتگیزی استعماری ذہن کے تحت جاپان میں داخل ہوئے تھے۔ مذہب کی آڑ میں انھوں نے جاپان کی سیاست پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ چیز جاپانیوں کو بے حد ناگوار تھی۔ پہلا پرتگیزی مشنری فرانس زیویر ۱۵۴۹ میں جاپان میں داخل ہوا تھا۔ اس کے پچاس سال بعد مسیحیوں کے خلاف جاپان میں داروگیر شر وع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ۱۶۱۲ میں ایک سخت فرمان جاری کیا گیا جس کے مطابق نہ کوئی مسیحی باہر سے آسکتا تھا اور نہ جاپان کا کوئی شہری مسیحی مذہب اختیار کر سکتا تھا۔ اس کے بعد ہزاروں عیسائی قتل کر دیئے گئے۔ ہزاروں نے عیسائیت کو چھوڑ کر دوبارہ اپنے آبائی مذہب کو اختیار کر لیا۔ عیسائیت کے مقدس نشان صلیب اور مسیح و مریم کے مجسموں کو توڑ ڈالا گیا۔ ۵۳ - ۱۸۵۸ تک عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا تھا۔
مگر اٹھارویں صدی میں یورپ میں جو فکری انقلاب آیا اس نے صورت حال کو دوبارہ مغرب کے موافق کر دیا۔ اس صدی میں یورپ نے سیاسی اور سماجی علوم کی از سر نو تدوین کی۔ اس نے ثابت کیا کہ فرد کی آزادی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو کسی سماج یا ریاست کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس فکری سیلاب نے ساری دنیا میں ان لوگوں کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا جو فرد کی آزادی کو ختم یا محدود کر کے اپنا سماجی نظام بنائے ہوئے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues